صفوف کے پر ہونے کی صورت میں کوئی نمازی آئے تو وہ کیا کرے؟ مقتدی کا امام کو جاہل کہنا کیسا ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: امام نماز پڑھا رہا ہے اور پیچھے مقتدی کی صف بالکل بھری ہوئی ہے جلدی میں ایک نمازی آیا تو صف کے کدھر سے آدمی کھینچے؟ بیچ میں سے یا ایک طرف سے؟ اگر کنارے سے بیچ کر بیچ میں لائے تو اس کی نماز ہو گی کہ نہیں؟ اگر مقتدی امام سے کہے کہ تو کچھ بھی نہیں جانتا ہے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ جواب با صواب سے مطلع فرمائیں۔ المستلقی محمد نجم الدین معلم انگلش سنج بریلی شریف
الجواب: آج کل عوام مسئلہ سے بے خبر ہیں۔ اس لیے حکم یہ ہے کہ کنارے ہو کر آدمی کی پشت پر ہاتھ رکھ دے وہ اگر مسئلہ سے واقف ہوگا تو کچھ توقف کر کے اپنی جگہ سے پھینچ آئے گا ورنہ یہ نیت باندھ لے اب کراہت نہ ہوگی ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد ۳ ص ۳۹۱) واللہ تعالیٰ اعلم امام سے بلا وجہ ایسا جملہ کہنا نا جائز اور باعث ایذا ہے۔ حدیث پاک میں ہے: من اذى مسلماً فقد اذانی و من اذانی فقداذی الله “ (1) یعنی جس نے کسی مسلمان کو ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایزا دی۔ لہذا اس سے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) کنز العمال ، ج ۱، ص ۵ ، حدیث - ۴۳۶۹۶ ، دار الكتب العلمية بيروت