مسبوق کی رکعت مقید ہونے کے بعد امام کا سجدہ سہو اور اعادہ نماز میں اتباع کا حکم
امام کے سلام کے بعد مسبوق اپنی رکعت کو سجدے سے مقید کر دیا پھر امام نے سجدہ سہو کیا تو اب مسبوق کیا کرے؟ ترک فرض کی وجہ سے امام نے اعادہ نماز کیا تو مسبوق بھی امام کی پیروی کرے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (۱) مسبوق امام کے سلام کے بعد اپنی رکعت کو سجدہ سے مقید کر دیا اسکے بعد امام کو یاد آیا کہ مجھ پر سجدہ سہولا زم تھا اور یاد کر کے سجدہ سہو کیا تومسبوق نے اگر امام کی پیروی کر لی تو اسکی نماز فاسد ہو جائے گی یا نہیں؟ (۲) زید مسبوق ہے اور امام فرض کے چھوٹ جانے کی وجہ سے از سرنو نماز پڑھا تو زید امام کی پیروی کریگا یا نہیں؟ بکر کا کہنا ہے کہ زید امام کی اتباع نہیں کریگا کیونکہ امام عارضہ کی وجہ سے پڑھ رہا ہے۔
الجواب: (۱) صورت مسئولہ میں مسبوق آخر نماز میں سجدہ سہو کرے کہ جب وہ رکعت کو سجدے سے مقید کر چکا تو اس کا منفرد ہونا مؤکد ہو گیا اور تاکہ انفراد اس رکعت کا القاء جائز نہیں مجمع الانہر میں ہے: ” وان سجد قبل سجود امامه لا يتابعه لتأكيد انفراده ويسجد في آخر صلاته لسهو الامام استحسانا لالتزامه ان يفعل مثله كما في البرهان (1) مگر امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنے کی صورت میں نماز کا فاسد ہونانظر سے نہ گذرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید امام کی پیروی کرے کہ اس صورت میں نماز نہ ہوئی لہذا اعادہ فرض ، اور جماعت واجب تو اقتد الازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) مجمع الانهر جلد اول ، كتاب الصلوة باب سجود السهو ص ۱۸۹ ، دار احیاء تراث العربی فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله