تراویح کی شرعی حیثیت، بیس رکعات کی اہمیت، اور باجماعت ادائیگی کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین مسائل ذیل کے بارے میں کہ: (۱) رمضان المبارک میں تراویح کی نماز با جماعت ہوتی ہے جبکہ تراویح فرض نہیں ہے اور امام صرف فرض ہی پڑھاتا ہے تو تر او یک امام کیوں پڑھاتا ہے؟ (۲) کیا تراویح نہ پڑھنے سے روزہ نہیں ہوتا ؟ (۳) کیا حضور سر کار دو عالم نے بھی تراویح پڑھی ہے اور باجماعت پڑھی؟ (۴) تراویح کیلئے بیس رکعت لا زم ہیں ۔ کم زیادہ نہیں ہوسکتیں؟ (۵) تراویح الگ بھی پڑھ سکتا ہے؟ ان ۵ سوالوں کے جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔ المستفتی : محمد مصطفی علی خاں رضوی حاجی منزل پیروں کا چوک امام باڑہ اجمیر شریف
تراویح سنت مؤکدہ ، جماعت تراویح سنت مؤکدہ علی وجہ الکفایہ ہے! عند الاحناف رکعات تراویح ہیں ہیں ! بلا عذر شرعی ترک تراویح ترک سنت ہے جو موجب ملامت ہے! ثبوت جماعت تراویح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہے! الجواب: تراویح سنت مؤکدہ ہے اور اس میں جماعت سنت مؤکدہ علی وجہ الکفایہ ہے لہذا اگر محلہ کے کچھ لوگوں نے تراویح با جماعت ادا کی تو سب بری الذمہ ہو گئے ورنہ سب بوجہ ترک گنہ گار ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ امام تراویح پڑھاتا ہے اور تراویح کی رکعتیں ہیں ہیں اسی پر حنفیہ کا عمل ہے۔ اور ہم بفضلہ تعالیٰ حنفی ہیں ہم پر اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنا لازم ہے اور تراویح پر روزہ کی صحت موقوف نہیں، مگر بے عذر تراویح کا چھوڑ نا ترک سنت ہے جو موجب ملامت ہے اور اس کی عادت گناہ ہے اور سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے تراویح پڑھی ہے مگر جماعت سے پڑھنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ثابت ہے اور ان کا عمل ہمارے لئے حجت ہے کہ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے خلفا راشدین کی سنت پر عمل کرنے کا حکم امت کو دیا ہے۔ درمختار میں ہے: التراويح سنة مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين للرجال والنساء والجماعة فيها سنة على الكفاية فى الاصح فلوتركها اهل مسجد أثمواوهي عشرون ركعة (1) رد المحتار میں ہے: وو وهل المراد انها سنة كفاية لاهل كل مسجد من البلدة او مسجد واحدمنها اومن المحلة ظاهر كلام الشارح الاول واستظهر والثانى ويظهر لى الثالث لقول المنية حتى لو ترک اهل محلة كلهم الجماعة فقد تركوا السنة (۲) واللہ تعالیٰ اعلم