عورتوں کی جماعت اور مرد کے پہلو میں عورت کے کھڑے ہونے کی کراہت کا حکم
عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ! عورت مشتہاہ کا جماعت نماز میں مرد کے پہلویا آگے کھڑے ہونے کا حکم ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: عورتوں کی جماعت درست ہے کہ نہیں اگر مرد امامت کرے تو اس کے پیچھے کوئی مرد اور اس کے پہلو میں اسکی اہلیہ یا کوئی عورت کھڑی ہو سکتی ہے کہ نہیں؟ اگر اس طرح نماز پڑھی تو نماز ہوئی یا نہیں ؟ اگر کئی ماہ سے اس طرح نماز لاعلمی کی حالت میں پڑھی تو کیا کرے بینوا توجروا۔ المستفتی: محمد راشد خاں معرفت مرحوم محمد یعقوب خاں ریٹائر ریلوے اسٹیشن ماسٹر محلہ مرزا پور لائن پار ضلع نواده (بہار)
مسئله - ۲۲۰ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ! عورت مشتہاہ کا جماعت نماز میں مرد کے پہلویا آگے کھڑے ہونے کا حکم ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: عورتوں کی جماعت درست ہے کہ نہیں اگر مرد امامت کرے تو اس کے پیچھے کوئی مرد اور اس کے پہلو میں اسکی اہلیہ یا کوئی عورت کھڑی ہو سکتی ہے کہ نہیں؟ اگر اس طرح نماز پڑھی تو نماز ہوئی یا نہیں ؟ اگر کئی ماہ سے اس طرح نماز لاعلمی کی حالت میں پڑھی تو کیا کرے بینوا توجروا۔ المستفتی: محمد راشد خاں معرفت مرحوم محمد یعقوب خاں ریٹائر ریلوے اسٹیشن ماسٹر محلہ مرزا پور لائن پار ضلع نواده (بہار) الجواب: مکروہ تحریمی ہے۔ مراقی الفلاح میں ہے: و كره جماعة النساء بواحدة منهن سید عن الدرر (۳) طحطاوی میں ہے: قوله وكره وهو ايضا مکروه في حقهن سید عن الدر (1) اور عورت مشتہاۃ کا مرد کے پہلو میں یا آگے بلا فصل کھڑا ہونا مفسد نماز ہے بشرطیکہ امام نے اس کی امامت کی نیت کی ہوا اور امام یا مقتدی نے اسے پیچھے ہٹنے کا اشارہ نہ کیا ہو، اور اگر پہلو میں کھڑی ہوئی مگر درمیان میں حائل یا ایک آدمی کی جگہ خالی ہے یا امام نے اسکی نیت نہ کی یا اسے پیچھے ہٹنے کا اشارہ امام خواہ مقتدی نے کیا اور وہ نہ ہٹی تو نماز اسی عورت کی فاسد ہوگی مردوں کی نماز ہو جائے گی ۔ مراقی الفلاح میں ہے: ومحاذاة المشتهاة) ولو محرماله اوزوجة اشتهيت ولو ماضيا كعجوز شوهاء في صلاة مطلقة مشتركة تحريمة بلا حائل قدر زراع او فرجه تسع رجلا ولم يشر اليها لتتأخر عنه فان لم تتأخر باشارته فسدت صلاتها لا صلاته وتاسع شروط المحاذاة المفسدة ان يكون الامام قدنوی امامتها (۲) طحطاوی میں ہے: وو والتفسير الصحيح لها ما فى المجتبى وهو ان تقوم المرأة بجنب الرجل او قدامه من غير حائل وفى الدر المعتبر المحاذاة بعضو واحد“الخ (۳) لہذا صورت مسئولہ میں اگر مرد نے عورت کی امامت کی نیت کی اور وہ اس کے پہلو میں بلا حائل و بے فصل متصل کھڑی ہوئی اور اس نے ہٹنے کا اشارہ نہ کیا تو دونوں کی نماز فاسد ہوئی اعادہ فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ ۲۱ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ