صاحب ترتیب کے لیے فوت شدہ نماز کی قضا اور وقتیہ نماز کا حکم
صاحب ترتیب کا وقت یہ نماز پڑھنا فائنہ کے یاد ہوتے ہوئے کیسا؟ اوقات مکروہہ کے علاوہ تمام اوقات میں قضا نماز پڑھنا درست ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید عصر کے وقت مسجد میں پہنچا۔ اس وقت جماعت کھڑی ہوگئی تھی مگر زید نے نماز ظہر ادا نہیں کی ہے اب جواب طلب امر یہ ہے کہ موصوف جماعت میں شامل ہو جائے یا قضا ادا کرنے کے بعد جماعت میں شامل ہو؟ جماعت میں شامل ہونے کے بعد فوراً ظہر پڑھے یا بعد میں؟ عصر کی نماز کے بعد کیا قضائے عمری پڑھ سکتے ہیں؟
الجواب: اگر وہ صاحب ترتیب ہے یعنی اسکی چھ یا زائد نماز یں لگا تار قضا نہ ہوئیں تو اسے لازم ہے کہ پہلے اپنی قضا پڑھے کہ صاحب ترتیب کی وقتیہ جبکہ فائنہ یاد ہو اور وقت میں گنجائش ہو، ادائے وقتیہ صحیح نہیں ، کمافی عامتہ الاسفار ۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے: وان كانت المتروكة اكثر من واحدة والوقت يسع فيه بعضها مع الوقتية لا تجوز الوقتية مالم يقض ذلك البعض (۲) اور اگر وہ صاحب ترتیب نہیں تو جماعت میں شامل ہو جائے پھر اپنی قضا پڑھے مگر مسجد میں قضا نہ پڑھے کہ گناہ کا اظہار ہے یا گناہ کی تہمت متوجہ ہوگی اور ان دونوں سے بچنا لازم ہے۔ پڑھ سکتے ہیں مگر غیر وقت مکروہ میں ۔ ثم ليس للقضاء وقت معين بل جميع اوقات العمر وقت له الاثلاثة وقت طلوع الشمس ووقت الزوال ووقت الغروب فانه لا تجوز الصلاة في هذه الاوقات كذا في البحر الرائق (1) اور درمختار میں ہے: و جميع اوقات العمر وقت القضاء الا الثلاثة المنهية كما مر ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله