بلا وجہ شرعی تکرار جماعت کا حکم
سوال
بلا وجہ شرعی تکرار جماعت جائز نہیں، وقت وجود وجہ شرعی تکرار جماعت میں حرج نہیں ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ھذا میں کہ:
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: بلا وجہ شرعی دو جماعتیں جائز نہیں درمختار میں ہے: ویکره تكرار الجماعة في مسجد محلة باذان واقامة_الخ )) اور ہندیہ میں ہے: ”المسجد اذا كان له امام معلوم وجماعة معلومة في محله فصلی اهله فيه بالجماعة لا يباح تكرارها فيه باذان ثان (۲) اور وجہ شرعی ہو تو جائز اور صورت مسئولہ میں بلا شبہ دوسری جماعت ضرور بلکہ اولیٰ ہے۔(۳) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۶ / ذی الحجہ ۱۳۹۸ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۳۰۹–۳۱۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
امام کے ساتھ مسبوق یا مدرک کے ثنا پڑھنے کا حکم ! امام کے سکنات میں ثنا پڑھنا ممنوع ہے اہر رکعت کے شروع میں تسمیہ پڑھنے کا حکم ہے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
نسبندی کرانے کا شرعی حکم اور نماز کی صف میں کھڑے ہونا
باب: کتاب الصلوٰۃ
جماعت سے نماز پڑھنا واجب، بلا عذر شرعی ترک جماعت گناہ اور فاسق کی اقتدا کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
امامت تراویح کی اجرت، مسجد کی چھت پر جماعت کی کراہت اور دیگر مسائل
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام کے سلام پھیرتے وقت جماعت میں شامل ہونے کا حکم !
باب: کتاب الصلوٰۃ