امام کے سلام پھیرتے وقت جماعت میں شامل ہونے کا حکم !
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: آخری رکعت میں مقتدی شامل ہوا اور امام کے سلام پھیر نے سے قبل اگر اسکی اللہ اکبر کی راء سلام سے پہلے پوری ہو جاتی ہے تب وہ شامل جماعت ہوا یا نہیں مفصل جواب سے نوازیں۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: نہیں کہ اس صورت میں وہ امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں شامل نہ ہوا اور صحت اقتدا کیلئے ضروری ہے کہ امام کے ساتھ جزء رکن میں مشارکت پائی جائے اور وہ نہ پائی گئی ہاں اگر قعدہ اخیرہ میں امام کو پالیتا تو نماز صیح ہوتی ۔ درمختار میں ہے: لان المشاركة في جزء من الركن شرط () واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱ محرم الحرام ۱۴۰۹ھ (1) الدر المختار، ج ۲، ص ۸۱۶ ، كتاب الصلوة ، باب ادراك الفريضة، دار الكتب العلميه
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۳۰۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
سردی کے باعث نماز کے دوران مسجد کے دروازوں پر پردہ لٹکانے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
جماعت سے نماز پڑھنا واجب، بلا عذر شرعی ترک جماعت گناہ اور فاسق کی اقتدا کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
بلا عذر شرعی جماعت اولی چھوڑنا اور مسجد میں دوسری جماعت قائم کرنا
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام کے ساتھ مسبوق یا مدرک کے ثنا پڑھنے کا حکم ! امام کے سکنات میں ثنا پڑھنا ممنوع ہے اہر رکعت کے شروع میں تسمیہ پڑھنے کا حکم ہے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
مکہ معظمہ، مدینہ منورہ میں نجدی وہابی امام کی اقتدا کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ