مکہ معظمہ، مدینہ منورہ میں نجدی وہابی امام کی اقتدا کا شرعی حکم
سوال
مکہ معظمہ، مدینہ منورہ میں نجدی وہابی امام کی اقتدا کرنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ: اگر کوئی صاحب حج بیت اللہ شریف کیلئے جائیں تو وہاں جا کر مکہ شریف اور مدینہ شریف کے امام
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
المستفتی : الحاج قاسم خاں کوئلہ والے، محلہ بیج ناتھ باڑہ رائے پور مکہ معظمہ مدینہ منورہ میں مجدی حکومت مسجد یوں کو امامت کیلئے مقرر کرتی ہے۔ مجدی، ہندی وہابیوں کی طرح کفری عقائد رکھتے ہیں لہذا ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے کفایہ میں ہے: والكافر لا صلاة له فالاقتداء من لا صلوة له باطل (1) تو انکی اقتداء میں نماز کا ثواب کیونکر مقصود۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸ رمضان المبارک ۰۲
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۳۰۲–۳۰۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بے وجہ شرعی جماعت چھوڑنا اور جماعت شرعیہ کی توہین کرنا
باب: کتاب الصلوٰۃ
بلا عذر شرعی جماعت اولی چھوڑنا اور مسجد میں دوسری جماعت قائم کرنا
باب: کتاب الصلوٰۃ
فرقہ وہابیہ غیر مقلدین کی حقیقت اور تکرار جماعت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
سردی کے باعث نماز کے دوران مسجد کے دروازوں پر پردہ لٹکانے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
ریڈیو کی خبر پر یوم شک کا روزہ رکھنا اور نماز عاشورہ کی باجماعت ادائیگی
باب: کتاب الصلوٰۃ