فرقہ وہابیہ غیر مقلدین کی حقیقت اور تکرار جماعت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ہمارے محلے میں ایک مسجد ہے جس میں ہم اہل محلہ با جماعت پنجگانہ نماز پڑھتے ہیں یہ مسجد بازار سے متصل ہے کچھ لوگ باہر کے بغرض تجارت بازار میں آتے ہیں اور وقتا فوقتا مسجد میں آکر وقت بے وقت اپنی جماعت کر کے نماز پڑھتے ہیں یہ لوگ غیر مقلد وہابی ہیں اور ان کی نماز کا طریقہ اور نمازوں کے اوقات عام مسلمانوں کی نماز کے طریقے اور اوقات سے علیحدہ ہیں یہ لوگ عموماً مسلمانوں کی نماز سے پہلے اپنی نماز پڑھتے ہیں اب انہوں نے عام مسلمانوں کے خلاف استغاثہ دائر کیا ہے جس میں اہل محلہ پر ایک الزام یہ بھی لگایا ہے کہ یہ لوگ دوسری جماعت کر کے شریعت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں اب دریافت طلب امور درج ذیل ہیں۔ (1) صورت مسئولہ میں کون سی جماعت اولی یعنی پہلی جماعت ہے اور کون سی جماعت ثانیہ یعنی دوسری جماعت؟ (۲) کیا غیر مقلد وہابیوں کی جماعت اذان نماز اہل حق کے نزدیک جو بحمد اللہ قرآن وحدیث پر عمل کرنے والے ہیں معتبر ہے؟ (۳) ایک مسجد میں دو جماعتوں کا کیا حکم ہے اور مختلف حالات و مقامات میں اس کا کیا حکم ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں مفصل جواب مرحمت فرمائیں۔ المستفتی: محمد صدیق شاهدانه بریلی شریف
الجواب، بعون الملک الوہاب : فرقہ وہابیہ غیر مقلدین کہ تقلید ائمہ دین کے دشمن اور ہمارے عوام اہل اسلام کے رہزن ہیں مذاہب اربعہ کو چوراہا بتا ئیں ائمہ دین کو احبار ورہبان ٹھہرائیں۔ مسلمانوں کو کافر و مشرک بنائیں۔ قرآن وحدیث کی آپ سمجھ رکھنا ارشادات ائمہ کو جانچنا پر کھنا ہر عامی جاہل کا کام نہیں بے راہ چل کر بریگا نہ مچل کر حرام خدا کو حلال کر دیں حلال خدا کو حرام کہیں ان کا بدعتی بد مذہب گمراہ بے ادب ضال مضل ہونا نہایت جلی واظہر بلکہ عند الانصاف یہ طائفہ باطلہ بہت فرق اہل بدعت سے ابتراشد اضر ہے۔ صحیح بخاری شریف میں تعلیقا اور شرح السنتہ امام بغوی و تہذ بب الآثار امام طبری میں موصولاً وارد: كان ابن عمر يراهم شرار خلق الله ، وقال انهم انطلقوا الى آيات نزلت في الكفار فجعلوها على المؤمنين یعنی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما خوارج کو بدترین خلق اللہ جانتے کہ انہوں نے وہ آیتیں جو کافروں کے حق میں اتریں اٹھا کر مسلمانوں پر رکھ دیں۔ بعینہ یہی حالت ان حضرات کی ہے آیہ کریمہ: اتخذوا احبارهم ورهبانهم اربابا من دون الله که کفار اہل کتاب اور ان کے عمائد وار باب کے حق میں اتری ہمیشہ یہ بے باک لوگ اہل سنت و ائمہ اہل سنت کو اس کا مصداق بتاتے ہیں علامہ طاہر پر رحمت غافر کہ مجمع بحارالانوار میں قول ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نقل کر کے فرماتے ہیں: قال المذنب تاب الله عليه و اشر منهم من يجعل آيات الله في شرار اليهود على علماء الامة المعصومة المرحومة طهر الله الارض عن رجسهم یعنی ان خارجیوں سے بدتر وہ لوگ ہیں کہ اشرار یہود کے حق میں جو آئینتیں اتریں انہیں امت محفوظہ مرحومہ کے علما پر ڈھالتے ہیں اللہ تعالیٰ زمین کو ان کی خباثت سے پاک کرے آمین۔ اصل اس گروہ ناحق کی مسجد سے نکلی صیح بخاری شریف میں ہے: عن نافع عن ابن عمر رضى الله تعالى عنهما قال ذكر النبی الا الله قال اللهم بارک لنافی شامنا اللهم بارک لنا فی یمننا قالوا يا رسول الله ) وفى نجدنا قال اللهم بارک لنافی شامنا اللهم بارك لنا في يمننا قالوا يا رسول الله ) وفى نجدنا فاظنه قال في الثالثة هناك الزلازل والفتن وبها يطلع قرن الشيطان (1) حضور پرنورسید عالم صلی ہی تم نے دعا فرمائی الہی ہمارے لئے برکت دے ہمارے شام میں الہی ہمارے لئے برکت دے ہمارے یمن میں صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ہمارے نجد میں حضور نے دوبارہ وہی دعا کی الہی ہمارے لئے برکت دے ہمارے شام میں الہی ہمارے لئے برکت دے ہمارے یمن میں صحابہ نے پھر عرض کی یا رسول اللہ اور ہمارے نجد میں ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں میرے گمان میں تیسری دفعہ پر حضور نے مسجد کی نسبت فرمایا وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہیں سے نکلے گی سنگت شیطان کی ۔اس خبر صادق سالی ایم کے مطابق عبد الوہاب نجدی کے پسر واتباع نے بحکم آنکہ- پدر اگر نتواند پسر تمام کند - تیرہویں صدی میں حرمین طیبین پر خروج کیا اور نا کر دنی کاموں نا گفتنی باتوں سے کوئی دقیقہ زلزلہ وفتنہ کا اٹھا نہ رکھا۔ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَلَى مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ (۱) حاصل ان کے عقائد زائفہ کا یہ تھا کہ عالم میں وہی مشت ذلیل موحد مسلمان ہیں باقی تمام مومنین معاذ اللہ مشرک اسی بنا پر انہوں نے حرم خدا و حریم مصطفی علیہ افضل الصلاة والثنا کو عیاذ باللہ دار الحرب اور وہاں کے سکان کرام ہمسائیگان خدا اور رسول کو ( خاک برہان گستاخاں ) کافر ومشرک ٹھہرایا اور بنام جہاد وخروج کر کے لوائے فتنہ عظمی پر شیطنت کبری کا پرچم اڑایا۔ علامہ شامی قدس سرہ نے کچھ تذکرہ اسی واقعہ ہائلہ کا فرمایا۔ رد المحتار حاشیہ در مختار کی جلد ثالث کتاب الجہاد باب البغاۃ میں زیر بیان خوارج (1) بخاری شریف، ج ۲، ص ۱۰۵۱، کتاب الفتن، باب قول النبي صلى الله تعالى عليه وسلم الفتنة من قبل المشرق مجلس بركات (۲) سورة الشعراء: ۲۲۷ فرماتے ہیں: كما وقع في زماننا في اتباع عبدالوهاب الذين خرجوامن نجد وتغلبوا على الحرمين وكانوا ينتحلون مذهب الحنابلة لكنهم اعتقدوا انهم هم المسلمون وان من خالف اعتقادهم مشركون واستباحوا بذالك قتل اهل السنة وقتل علمائهم حتى كسر الله تعالى شوكتهم و خرب بلادهم و ظفر بهم عساكر المسلمين عام ثلث وثلاثين و مأتين و الف) یعنی خارجی ایسے ہوتے ہیں جیسا ہمارے زمانے میں پیروان عبد الوہاب سے واقع ہوا جنہوں نے نجد سے خروج کر کے حرمین شریفین پر تغلب کیا اور وہ اپنے آپ کو جنبلی کہتے تھے مگر ان کا یہ عقیدہ تھا کہ بس وہی مسلمان اور جو ان کے مذہب پر نہیں وہ سب مشرک ہیں اسی وجہ سے انہوں نے اہل سنت و علمائے اہل سنت کا قتل مباح ٹھہرالیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انکی شوکت توڑ دی اور ان کے شہر ویران کئے اور لشکر مسلمین کو ان پر فتح بخشی ۱۲۳۳ھ میں والحمد لله رب العلمین۔ یہاں تک کہ یہ فتنہ ہندوستان کی نرم زمین پر آیا آتے ہی اپنے قدم جمائے بانی فتنہ نے کہ اسی مذہب نا مہذب کا معلم ثانی ہوا وہی رنگ و آہنگ کفر و شرک پکڑا کہ ان معدودے چند کے سوا تمام مسلمان مشرک اور یہاں تک ان کے امام و بانی و ثانی کو شرک و کفر کی وہ تیز وتند چڑھی کہ مسلمانوں کے مشرک کافر بنانے کو حدیث نقل کر کے بے دھڑک زمانہ موجود پر جمادی جس میں حضور سید عالم مال کی ایم نے فرمایا ہے کہ زمانہ فنانہ ہوگا جب تک لات و عزی کی پھر پرستش نہ ہو اور وہ یوں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اٹھالے گی۔ جس کے دل میں رائی کے دانہ برابر ایمان ہوگا انتقال کر یگا جب زمین میں نرے کا فررہ جائیں گے پھر بتوں کی پرستش ہو جائیگی ) اس حدیث کو نقل کر کے صاف لکھ دیا ”سوپیغمبر خدا کے فرمانے کے موافق ہوا انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہوش مند نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ اگر یہ وہی زمانہ ہے جس کی خبر حدیث میں دی ہے تو واجب ہوا کہ روئے زمین پر مسلمان کا نام ونشان باقی نہ ہو بھلے مانس اب تو اور تیرے ساتھی کدھر بیچ کر جاتے ہیں کیا دانے برابر ایمان کا نام نہیں۔ مسلمان دیکھیں کہ جو عیار صریح واضح متداول حدیثوں میں ایسی معنوی تحریفیں کریں، بے پر کی اڑانے میں اپنے معلم باطنی کے بھی کان کتریں، (1) ردالمحتار ج ۲، ص ۴۱۳ ، كتاب الجهاد باب البغاة، دار الكتب العلميه بيروت جھوٹے مطلب دل سے بنائیں اور انہیں حضور کا مقصود ٹھہرائیں، حالانکہ حضور صلالہ اسلام متواتر حدیث میں ارشاد فرمائیں : وو من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار (1) جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنائے ایسوں کا مذہب معلوم اور عمل بالحدیث کا مشرب معلوم یع قیاس کن زگلستان شاں بہاریشاں پھر دعویٰ یہ ہے کہ ہم تو خیر البریہ یعنی قرآن اور قول خیر البریہ صلہ تھا کہ تم یعنی حدیث پر چلتے ہیں سبحان اللہ یہ منھ اور یہ دعوی سچ فرمایا خیر البریہ صلی یا تم نے : ياتي في آخر الزمان قوم حدثاء الاسنان سفهاء الاحلام يقولون من قول البرية يمرقون من الاسلام كما يمرق السهم من الرمية لايجاوزايمانهم حناجرهم(۲) آخر زمانہ میں کچھ لوگ حدیث السن، سفیہ العقل آئیں گے کہ اپنے زعم میں قرآن یا حدیث سے سند پکڑیں گے اسلام سے نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے ایمان ان کے گلوں کے نیچے نہ اترے گا۔ اخرجه البخاری و مسلم وغيرهما عن امير المومنين علی کرم الله تعالى وجهه واللفظ للبخارى فى فضائل القرآن من الجامع الصحيح واقعی یہ لوگ پرانے خوارج کے ٹھیک ٹھیک بقیہ و یادگار ہیں وہی مسئلہ وہی دعوے وہی انداز ۔ اہل سنت کان کھول کر سن لیں کہ دھوکے کی ٹی میں شکار نہ ہوجائیں۔ ہمارے نبی سانتا کہ تم نے صحیح حدیث میں فرمایا: تحقرون صلاتكم مع صلاتهم و صيامكم مع صيامهم و عملكم مع عملهم (۳) تم اپنی نماز ان کی نمازوں کے آگے حقیر جانو گے اور اپنے روزے ان کے روزوں کے سامنے اور اپنے اعمال ان کے اعمال کے مقابل ) یہاں تک کہ حضور صلی یا یہی ہم نے انکی پہچان بتائی۔ بالجملہ یہ حضرات خوارج نہروان کے پس ماندے بلکہ غلو و بے باکی میں ان سے بھی آگے ہیں۔ یہ انہیں بھی نہ سو بھی تھی کہ شرک و کفر تمام مسلمین کا دعویٰ اس حدیث سے ثابت کر دکھاتے جس سے ذی ہوش مذکور نے استدلال کیا۔ طرفه شاگر دے کہ می گوید سبق استا در ا۔ مگر حضرت حق عز وجل کا حسن انتقام لائق عبرت ہے چاہ کن را چاه در پیش من حفر بئر ا لاخيه فقد وقع فيه حدیث سے سند لائے تھے مسلمانوں کے کافر مشرک بنانے کو اور حمد اللہ خود اپنے مشرک کا فر ہونے کا اقرار کر لیا کہ جب یہ وقت وہی ہے کہ روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں تو یہ مستدل بھی انہیں کافروں میں کا ایک ہے۔ علامه طحطاوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ حاشیہ در مختار میں ناقل : من شذ عن جمهور اهل الفقه والعلم والسواد الاعظم فقد شذ فيما يدخله في النار فعليكم معاشر المومنين باتباع الفرقة الناجية المسماة باهل السنة والجماعة فان نصرة الله تعالى وحفظه و توفيقه فى موافقتهم وخذلانه وسخطه و مقته فى مخالفتهم وهذه الطائفة الناجية قد اجتمعت اليوم في مذاهب اربعة وهم الحنفيون والمالكيون والشافعيون والحنبليون رحمهم الله تعالى ومن كان خارجا عن هذه الاربعة في هذا الزمان فهو من اهل البدعة والنار (1) یعنی جو شخص جمہور اہل علم وفقہ و سواد اعظم سے جدا ہو جائے وہ ایسی چیز کے ساتھ تنہا ہوا جو اسے دوزخ میں لے جائے گی تو اے گروہ مسلمین ! تم پر فرقہ ناجیہ اہل سنت و جماعت کی پیروی لازم ہے کہ خدا کی مدد اور اس کا حافظ و کارساز رہنا موافقت اہلسنت میں ہے اور اس کا چھوڑ دینا اور غضب فرمانا اور دشمن بنانا سنیوں کی مخالفت میں ہے اور یہ نجات والا گروہ اب چار مذہب میں مجتمع ہے حنفی، مالکی ، شافعی جنبلی اللہ تعالیٰ ان سب پر رحمت فرمائے اس زمانے میں ان چار سے باہر ہونے والا بدعتی جہنمی ہے ) علامہ شامی کا ارشاد گزرا کہ انہوں نے ان کے اسلاف مسجد کو خارجیوں میں شمار فرمایا۔ یہ اختلاف کہ اصول میں ان کے مقلد اور فروع میں اعلان بے لگامی سے ان پر بھی زائد کہ وہ بظاہر ادعائے حنبلیت رکھتے تھے یہ اس نام کو بھی سیمائے شرک اور اپنے حق میں دشنام سخت جانتے ہیں کیونکہ خوارج میں داخل اور اپنے اگلوں سے بڑھ کر گمراہ و مبطل نہ ہوں گے الغرض احادیث صریحہ صحیحہ حضور سید عالم صلی اب تم واقوال جماہیر فقہائے کرام رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہم سے ان کا صریح کا فر ہونا ثابت یعنی ان کی تقلید کو شرک اور حنفیہ مالکیہ شافعیہ حنبلیہ مہم اللہ جمیعا بالطائفة العلیہ سب مقلدان ائمہ کومشرکین بتانا کہ یہ صراحۃ مسلمانوں کو کافر کہنا ہے اور مسلمان کو کافر کہنا خود کا فر ہونا ہے لہذا ثابت ہوا کہ یہ مسلمان نہیں اور جب مسلمان نہیں تو کیسی نماز کیسی اذان کیسا روزہ کیسا حج ۔ ان کی نمازیں محض باطل مسلمان حتی الوسع انہیں اپنی مساجد میں آنے سے روکیں اور جب ان کی نماز نماز نہیں تو جماعت اولی و ثانیہ کا کیا سوال ۔ اہلسنت و جماعت ہی کی نماز نماز ہے اور انہیں کی جماعت جماعت اولیٰ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور غیر مقلدوں نے اہلسنت و جماعت کے خلاف یہ بے پر کی اڑائی ہے کہ یہ لوگ دوسری جماعت کر کے شریعت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان پر لازم ہے کہ تفویۃ الایمان مصنفہ اسمعیل دہلوی کی روشنی میں اولاً وہ اپنا مومن ہونا ثابت کریں ثانیا اپنی جماعت کا جماعت صحیحہ شرعیہ ہونا ثابت کریں ثالثا جماعت ثانیہ کا شریعت کے حکم کے خلاف ہونا ثابت کریں اور وہ ہرگز ثابت نہ کر سکیں گے ہم بعو نہ تعالیٰ جماعت ثانیہ کے جواز کی چند صورتیں یہاں ذکر کرتے ہیں تا کہ حق بفضلہ تعالیٰ ظاہر اور غیر مقلدین کا دروغ آشکار ہو۔ (۱) جو مسجد شارع عام یا بازار یا اسٹیشن یا سرائے کی ہے جس کیلئے اہل محلہ معین نہیں وقت پر جو لوگ آئے پڑھ گئے غرض کسی محلہ خاص سے خصوصیت نہیں رکھتی ایسی مسجد میں بالا جماع تکرار جماعت باذان جدید و تکبیر جدید جائز بلکہ یہی شرعاً مطلوب ہے کہ نوبت به نوبت جولوگ آئیں نئی اذان واقامت سے جماعت کرتے جائیں اگر چہ وقت میں دس جماعتیں ہو جائیں (۲) مسجد محلہ کہ جو ایک محلہ خاص سے اختصاص رکھتی ہے۔ اس میں اقامت جماعت اسی محلہ والوں کا حق ہے اگر ان کے غیر جماعت کر گئے تو تکرار جماعت بلاشبہہ جائز ہے اور معلوم ہوا ہے کہ اس مسجد میں جس کے متعلق سوال ہے سنی ہی رہتے ہیں تو اقامت جماعت کا حق انہیں کو ہے نہ کہ ان غیر مقلدوں کو (۳) بعض اہل محلہ ہی جماعت کر گئے مگر بے اذان پڑھ گئے ۔ (۴) اذان بھی دی تھی مگر آہستہ ان صورتوں میں بھی بعد کو آنے والے باذان جدید بر وجہ سنت اعادہ جماعت کریں کہ جماعت معتبرہ وہی ہے جو اذان سے ہو اور اذان وہ جو اعلان سے ہو۔ ان صورتوں میں تو یہ حکم ہے تو جبکہ اذ ان احناف کے طور پر قبل از وقت جیسے عصر یا عشاء میں دیدی جائے تو وہ اذان احناف کے نزدیک نا معتبر اور وہ جماعت بھی نامعتبر تو حنفیوں کو تکرار جماعت سے ممانعت کی کیا وجہ ہے سوائے اس کے کہ غیر مقلدین کا مذہب ہی مذہب ہے اور وہی مسلمان بزعم خویش ہیں تو اذان و جماعت کا حق بزعم خویش انہیں کو ہے اور سنیوں کا مذہب مذہب نہیں نہ معاذ اللہ وہ مسلمان بزعم غیر مقلدان ہیں تو ان کے نزدیک انہیں جماعت کا حق نہیں ولا حول ولاقوة الا بالله العلی العظیم ۔ (۵) محلے میں حفی وغیر حنفی دونوں رہتے ہیں پہلے غیر حنفی امام نے جماعت کر لی اور حنفیوں کو معلوم ہے کہ اس نماز میں اس نے مذہب حنفی کے کسی فرض طہارت یا فرض صلاۃ یا شرط امامت کو ترک کیا ہے مثلاً چہارم سے کم مسح یا آب قلیل نجاست افتادہ سے وضو یا جسم یا کپڑے پر قدر درہم سے زیادہ منی یا صاحب ترتیب کا با وصف یا دو وسعت وقت بے ادائے فائنہ وقتیہ پڑھنا یا نماز وقت تنہا پڑھ کر پھر اسی نماز میں امامت کرنا تو ایسی حالت میں حنفیہ بلاشبہ اپنی جماعت جدا گانہ کریں کہ حنفی اس میں اقتد نہیں کر سکتا اگر کرے تو نماز ہی نہ ہو۔ (۶) خاص نماز کا تو حال معلوم نہیں مگر اس امام کی بے احتیاطی اور فرائض میں ترک لحاظ مذہب حنفی ثابت ہے جیسے عامہ غیر مقلدین کہ خواہی نخواہی اہل حق سے مخالفت اور مذاہب اربعہ خصوصاً مذہب مہذب حنفی کی مخالفت پر حریص ہیں جب بھی حنفیہ کو ان کی اقتداء گناہ و ممنوع ہے اپنی جماعت جدا گانہ کریں۔ (۷) اسکی نسبت امور مذکورہ کی مراعات کا عادی ہونا نہ ہونا کچھ معلوم نہیں جیسے کوئی نامعلوم الحال شافعی حنبلی مالکی اس صورت میں بھی انکی اقتدا خالی از کراہت نہیں تو جماعت ثانیہ کا فضل مبین ۔ (۸) عادت مراعات بھی معلوم ہی سہی پھر بھی بتصریح ائمہ امام موافق المذہب کے پیچھے جماعت ثانیه ای افضل و اکمل اور اس پر حرمین محترمین و مصر و شام بلا دارالاسلام میں جمہور مسلمین کا عمل ہر زمانہ میں جاری رہا۔ مسجد الحرام میں چاروں مذاہب کے ائمہ کے مصلے سعودی حکومت کے تسلط سے پہلے تھے پھر سعودی حکام نے اپنی وہابیت وغیر مقلدیت کے سبب انہیں ختم کر دیا۔ (۹) جس نے جماعت اولیٰ کی فاسد العقیدہ بد مذہب ہے ( مثلاً وہابی کہ اللہ تعالیٰ کے جھوٹ بولنے کوممکن ماننے والا جیسا کہ غیر مقلدوں کے امام مولوی اسمعیل دہلوی کا عقیدہ ہے دیکھو رسالہ یکروزی مصنفہ اسمعیل دہلوی) تو ایسے کی اقتد ابھی شرعاً ممنوع ہے۔ (۱۰) فاسق تھا جیسے شرابی زنا کار داڑھی منڈا سود خور کہ یہ لوگ ان وہابیوں کذابوں وغیر ہم بد مذہبوں کے مولویوں مفتیوں سے بھی اگر چہ لاکھ درجہ بہتر ہیں پھر بھی انکی اقتد اشرعاً بہت ناپسند ۔ (11) جماعت اولیٰ کا امام نرا بے علم جاہل نماز و طہارت کے مسائل سے غافل تھا تو ایسے کی امامت بھی مکروہ اور اس صورت میں جماعت ثانیہ بے کراہت کا جواز فضل خود ظاہر اور جاہل کی تمثیل انہیں حضرات غیر مقلدین سے دیجئے کہ اسی جماعت ثانیہ کے مسئلہ میں جو نماز کے مسائل سے ایک مسئلہ ہے کیسی بے باکی سے کہہ دیا کہ دوسری جماعت کر کے شریعت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اور جماعت ثانیہ کے جواز بلکہ تاکید فضل کی اتنی صورتوں سے بے خبر ہیں پھر جب ان کے نزدیک تقلید ائمہ حرام اور قرآن وحدیث کو سمجھناہر جاہل کا کام تو جاہل و عالم ان کے نزدیک آپ ہی برابر ہوئے حالانکہ قرآن فرماتا ہے: قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ) یعنی اے محبوب تم فرماؤ کیا جانے والے اور بے خبر برابر ہیں تو اپنے اس عقیدہ سے قرآن و دین ہی سے بے خبر بلکہ بدایت عقل ہی سے غافل ہیں تو ان نرے جاہلوں سے بھی گئے گزرے جن کے دلوں میں ائمہ وعلماء وعلم کی قدر تو ہے۔ (۱۲) قرآن مجید ایسا غلط پڑھتا تھا جس سے معنی فاسد ہوں جیسے ا- ع ت ط یاث س ص یا ذ زظ میں تمیز نہ کرنے والے کہ صحیح خواں کی نماز مذہب معتمد پر ان کے پیچھے مطلقاً فاسد ہے لہذا صحیح خوانوں کو جماعت ثانیہ ہی کا حکم ہے اقول بہت وہابی قصد أض کو مشابہ ظ پڑھتے ہیں اور یہ تحریف کلام الہی ہے جو کفر ہے کما صرح به العلماء (۲) (1) سورة الزمر : ۹ (۲) شرح الفقه الاكبر ص ۲۰۵ ، مکتبه تهانوی غرض ایسی صورتیں جماعت ثانیہ کی خاص تاکید یا فضل کی ہیں جن میں بالا جماع یا علی الا صبح اصلاً کلام کی گنجائش نہیں ضابطہ یہ ہے کہ جب جماعت اولیٰ اہل مسجد یا اہل مذہب کی نہ ہو یا اپنے مذہب میں فاسدہ یا مکروہہ ہو تو ہمیں جماعت ثانیہ کی مطلقا اجازت بلکہ در صورت کراہت قصداً جماعت اولی کو چھوڑ دینے کی رخصت جبکہ جماعت ثانیہ صحیحہ مل سکتی ہو اور درصورت فساد تو اس میں شرکت ہی سے صاف ممانعت اگر چہ جماعت ثانیہ میسر نہ ہو۔ اب ان مطالب پر نصوص علماء سنئے۔ متن غرر میں ہے: لا تكرر في مسجد محلة باذان واقامة الا اذا صلى بهما فيه اولا غیر اهله او صلی اهله بمخالفة الاذان (1) در مختار میں ہے: يكره تكرار الجماعة باذان واقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق او مسجد لا امام له ولا مؤذن له (۲) بحر الرائق میں ہے: حاصله ان صاحب الهداية جوز الاقتداء بالشافعى بشرط ان لا يعلم المقتدى منه ما يمنع صحة صلاته في رأى المقتدی کا لفصد و نحوه و عدد مواضع عدم صحة الاقتداء به في العناية وغاية البيان بقوله كما اذا لم يتوضأ من الفصد والخارج من غیر السبيلين وكان شاکافی ایمانه بقوله انا مؤمن ان شاء الله أو متوضأ من القلتين اوير فع يديه عند الركوع وعند رفع الراس من الركوع او لم يغسل ثوبه من المنى و لم يفركه او انحرف عن القبلة الى اليسار او صلى الوتر بتسليمتين او اقتصر على ركعة اولم يوتر اصلا او قهقه في الصلاة ولم يتوضأ اوصلى فرض الوقت مرة ثم ام القوم فيه زادفى النهاية وان لا يراعى الترتيب في الفوائت وان لا يمسح ربع راسه وزاد قاضی خان وان يكون متعصبا والكل ظاهر ما عدا خمسة اشياء الاول مسئلة التوضأ من القلتين فانه صحيح عندنا اذا لم يقع في الماءنجاسة ولم يختلط بمستعمل مساوله او اكثر فلا بدان يقيد قولهم بالقلتين المتنجس ماءهما او المستعمل بالشرط المذكور لا مطلقا الثاني مسئلة رفع اليدين من وجهين الاول ان الفساد رواية شاذة ليس بصحيحة رواية ولا دراية - الثانى ان الفساد عند الركوع لا يقتض عدم صحة الاقتداء من الابتداء مع ان عروض البطلان غير مقطوع به حتى يجعل كالمتحقق عند الشروع لان الرفع جائز الترك عندهم لسنية_الثالث مسألة الانحراف عن القبلة الى اليسار لان المانع عندنا ان يجاوز المشارق الى المغارب والشافعية لا ينحرفون هذا الانحراف_الرابع مسئلة التعصب لان التعصب على تقدیر وجوده منهم انما يوجب الفسق والفسق لا يمنع صحة الاقتداء الخامس مسئلة الاستثناء في الايمان فان التكفيرغلط والاستثناءقول اكثر السلف اهملتقطا () یہ کلام بحرفی البحر تھا۔ قلت و ههنا كلام للسيد السند لامام احمد رضا الجد فيما مر من البحر يتعلق بتاييد صاحب البحر فيما قال و تنقیح سافاته تنقيحه فيما اثر من المقال وذلك في الجزء الثالث من الفتاوى الرضوية فليراجع قد اثرنا الصور المنقحة التي تمنع صحة الاقتدار من الفتاوى المذكورة ولله الحمد نیز بحر میں ہے: فصار الحاصل ان الاقتداء بالشافعى على ثلثة اقسام الاول ان يعلم منه الاحتياط في مذهب الحنفى فلا كراهة فى الاقتداء به الثانى ان يعلم منه عدمه فلا صحة لكن اختلفواهل يشترط ان يعلم منه عدمه في خصوص مایقتدی به اوفی الجملة صحح في النهاية الاول وغيره اختار الثاني وفي فتاوى الزاهدی الاصح انه يصح وحسن الظن به اولیٰ الثالث ان لا يعلم شيئا فالكراهة ملتقطا (٢) البحر الرائق، ج ۲، ص ۷۹ ۸۰، کتاب الصلوۃ، باب الوتر والنوافل، ذکریا بکڈپو الفتاوی الرضویۃ، ج۲، ص ۳۴۱، رضا اکیڈمی ممبئی البحر الرائق ج ۲ ص ۸۲-۸۱ كتاب الصلوة باب الوتر والنوافل، زکریا بکڈپو رد المحتار میں ہے: نقل الشيخ خير الدين عن الرملي الشافعي انه مشى على كراهة الاقتداء بالمخالف حيث امكنه غيره قال الشيخ خير الدين والحاصل ان عندهم فی ذلک اختلافا و قد سمعت ما اعتمده الرملي وافتی به والفقير اقول مثل قوله فيما يتعلق باقتداء الحنفي بالشافعي والفقيه المصنف يسلم ذلك و انار ملی فقه الحنفی لا مرا بعد اتفاق العالمين اھـ ملخصا یعنی: به نفسه و رملي الشافعية رحمهما الله تعالى فتحصل ان الاقتداء بالمخالف المراعي في الفرائض افضل من الافراد اذالم يجد غيره والافالاقتداء بالموافق افضل (1) اسی میں ملا علی قاری علیہ رحمتہ الباری سے ہے: لو كان لكل مذهب امام كما في زماننا فالافضل الاقتداء بالموافق سواء تقدم او تأخر على ما اسحسنه عامة المسلمين و عمل به جمهور المؤمنين من اهل الحرمين والقدس ومصر والشام ولا عبرة بمن شذ منهم اھ(۲) پھر خودفرمایا: والذى يميل اليه القلب عدم كراهة الاقتداء بالمخالف مالم یکن غیر مراع في الفرائض وانه لو انتظر امام مذهبه بعيداً عن الصفوف لم يكن اعراضاً عن الجماعة للعلم بانه يريد جماعة اكمل من هذه الجماعة (۳) اسی میں زیر مسئلہ امامت عبد واعرابی تبعا للجر ہے: يكره الاقتداء بهم تنزيها فان امكن الصلاة خلف غيرهم فهو افضل والافالاقتداء اولى من الانفراد (4) اسی میں ہے: في المعراج قال اصحابنا لا ينبغي ان يقتدى بالفاسق الافي الجمعة لانه في غيرها يجد اماماً غيره_اه () بلکہ اسی میں ہے: بقى لو كان مقتديا بمن يكره الاقتداء به ثم شرع من لا كراهة فيه هل يقطع ويقتدى به استظهرط ان الاول لو فاسقا لا يقطع ولو مخالفا و شك فى مراعاة يقطع اقول والاظهر العكس لان الثانى كراهته تنزيهة كالاعمى والاعرابی بخلاف الفاسق فانه استظهر في شرح المنية انها تحريمية لقولهم ان في تقديمه للامامة تعظيمه و قد وجب علينا اهانته الخ (۲) غنیہ استملی شرح منیۃ المصل للعلا متہ ابراھیم الجبلی ص ۵۱۴ میں ہے: يكره تقديم المبتدع ايضاً لانه فاسق من حيث الاعتقاد وهو اشد من الفسق من حيث العمل لان الفاسق يعترف بانه فاسق ويستغفر بخلاف المبتدع (۳) تنویر الابصار و در مختار میں ہے: ولاغیر الالثغ به أى بالالثغ على الاصح كما في البحر عن المجتبى وحرر الحلبي وابن الشحنة انه بعد بذل جهده دائما حتماً كالأمي فلايؤم الامثلة ولا تصح صلاته اذا امكنه الاقتداء بمن يحسنه او ترک جهده او وجد قدر الفرض ممالالثغ فيه هذا هو الصحيح المختار في حكم الالثغ وكذا من لا يقدر على التلفظ بحرف من الحروف (۴) رد المحتار میں ہے: و ذلك كالرهمن الرهيم و الشيتان الرجیم والآلمين و ایاک نأبدو ایاک نستئین السرات انامت فکل ذلک حکمه مامر (۱) فتاوی خیریہ میں ہے: امامة الالثغ بالفصيح فاسدة في الراجح الصحيح (۲) اب محل نظر صرف ایک صورت رہی کہ مسجد محلہ میں اہل محلہ نے باذان واقامت بر وجہ سنت امام موافق المذہب سالم العقیدہ متقی مسائل داں صحیح خواں کے ساتھ جماعت اولی خالیہ عن الکراھتہ ادا کر لی پھر باقی ماندہ لوگ آئے انہیں اس مسجد میں دوبارہ جماعت قائم کرنے کی اجازت ہے یا نہیں اور ہے تو بکر اہت یا بے کراہت اس بارے میں مین تحقیق وحق وثیق یہ ہے کہ اس صورت میں تکرار جماعت اعادہ اذان ہمارے نزدیک ممنوع و بدعت ہے یہی ہمارے امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب مہذب و ظاہر الروایۃ ہے متن متین مجمع البحرین و بحر الرائق علامہ زین میں ہے: ولا تكررها فی مسجد محلة باذان ثان (۳) اور اگر بغیر اس کے تکرر جماعت کریں تو قطعاً جائز و روا ہے اسی پر ہمارے علماء کا اجماع ہوا ہے۔ عالمگیر یہ جلد اول ص ۸۲ / میں ہے: ما اذاصلوا بغیر اذان يباح اجماعاً و كذافي مسجد قارعة الطريق (۴) پھر یہ مطلق محض نہیں بلکہ کہیں کراہت بھی ہے اس میں صحیح یہ ہے کہ اگر محراب میں جماعت ثانیہ کریں تو مکروہ اور محراب سے ہٹ کر تو اصلا کراہت نہیں خالص مباح ہے۔ بزاز یہ وشرح منیہ وردالمحتار میں ہے: عن ابي يوسف انه اذا لم تكن الجماعة على الهيئة الاولى لا تكره والا تكره (1) رد المحتار، ج ۲، کتاب الصلوۃ، باب الامامة، ص ۳۲۸، دار الكتب العلميه بيروت (۲) الفتاوى الخيرية ، ج 1 ، ص ١٠ ، كتاب الصلوة، دار الكتب العلمية بيروت (۳) البحر الرائق، ج ۱، ص ۳۴۶ ، باب الامامة، مطبع ایچ ایم سعید کراچی ، (۴) عالمگیری، ج ۲، ص ۱۴۱، کتاب الصلوة، الباب الخامس الفصل الاول في الامامة، دار الكتب العلميه بيروت وهو الصحيح وبالعدول عن المحراب تخلف الهيئة )) اور فتاویٰ رضویہ میں ہے: ان الصحيح تكرار بالجماعة اذا لم تكن على الهيأة الاولى (٢) هذا كله خلاصة ما في الفتاوى الرضويه مع تصرف منا في مواضع بحسب المقام واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله