ریڈیو کی خبر پر یوم شک کا روزہ رکھنا اور نماز عاشورہ کی باجماعت ادائیگی
(۲) خالد نے ریڈیو کی خبر پر روزہ رکھ لیا پھر چند یوم کے بعد اسی یوم شک کے لئے یوم رمضان ہونے کی تصدیق ہوگئی تو کیا خالد یوم شک میں فرض کی نیت سے روزہ رکھ کر گنہگار ہوگا یا نہیں؟ اور اس پر تو بہ بھی لازم ہوگی یا نہیں؟ اور اس پر بعد رمضان اس یوم شک والے روزہ کی قضا لازم ہوگی یا نہیں؟ مع حوالہ کتاب تحریر فرمایا جائے ۔ بینوا توجروا۔ نوٹ: نماز عاشورہ اور نماز چاند گہن جماعت کے ساتھ پڑھنے کا جو بعض جگہ رواج ہے وہ کس حد تک صحیح ہے؟ المستفتی : قربان علی رضوی بیسلپوری مرتب : حافظ عبدالحمید
اور اسلم و بہتر صورت یہ ہے کہ تلاوت کے لئے مستقل سجدہ اصلاً نہ کرے بلکہ آیت سجدہ پڑھتے ہی معا نماز کا رکوع بجالائے اور اس میں نیت سجدہ نہ کرے پھر قومہ کے بعد فوراً نماز کے سجدہ اولیٰ میں جائے اور اس میں نیت سجدہ کر لے اس طرح امام اور مقتدی دونوں کا سجدہ بے قباحت و بے کراہت ہو جائے گا اگر چہ مقتدیوں نے کہیں نیت سجدہ تلاوت نہ کی ہو کہ سجدہ نماز جب فی الفور کیا جائے تو سجدہ تلاوت خود بخو دادا ہو جاتا ہے اگر چہ نیت نہ ہو۔ ردالمحتار میں ہے: لوركع وسجد لها اى للصلاة فوراً ناب: اى سجود المقتدى عن سجود التلاوة ،، بلانية تبعالسجود امامه لمامر آنفاًانها تؤدى بسجود الصلوة فوراًوان لم ينو بلکہ ہمارے علماء بحالت کثرت جماعت یا اخفائے قرآت اسی طریقے کو مطلقاً افضل ٹھہراتے ہیں ۔ مراقی الفلاح میں ہے: وو و ينبغى ذلك للامام مع كثرة القوم او حال المخافتة حتى لا يؤدى الى التخليط (۲) طحطاوی میں ہے: ”ای ولا يجعل لهاركوعاً او سجوداًمستقلاخوف الفساد (۳) سیدی اعلیٰ حضرت قبلہ علیہ الرحمہ نے اعادہ فرمایا کہ آج کل مسائل شرعیہ سے جہل عام ہے تو کثرت وقلت یکساں ہے۔ لہذا یہ حکم بھی یکساں ۔ افادہ فی فتاواه فلتراجع (۴) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) خالد پر تو بہ لازم ہے کہ یوم شک کا روزہ فرض کی نیت سے رکھنانا جائز ہے۔ حدیث میں ہے: من صام يوم الشك فقد عصی ابا القاسم صلى الله علیه و آله و سلم (ه) (1) ردالمحتار، ج ۲، ص ۵۸۸، کتاب الصلوۃ، باب سجود التلاوة، دار الكتب العلمية، بيروت (2) مراقی الفلاح، ص ۱۸۵، کتاب الصلوة باب سجود التلاوة المكتبة الاسلامي / ردالمحتار، ج۲، ص ۵۸۸ ، کتاب الصلوة باب سجود التلاوة، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) طحطاوی علی مراقی الفلاح، ص ۴۸۶، کتاب الصلوة باب سجود التلاوة، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) الفتاوى الرضويه ، ج ۳، ص ۶۵۴، ۶۵۳ ، رضا اکیڈمی (۵) الصحيح البخاری، ج ۱، ص ۲۵۶، کتاب الصوم، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم اذارأيتم الهلال فصوموا مجلس بركات جو یوم شک میں روزہ سے رہا اس نے حضور کی نافرمانی کی۔ خالص نفل کی نیت سے خواص کو جائز ہے۔ قضا لازم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح محسین رضا غفرلہ وَارْكَعُوا مَعَ الركِعِینَ ۔ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ (۱)