ایک شب میں قرآن ختم کرنے (شبینہ) کے جواز و عدم جواز اور اس کی شرائط کی تفصیل
ہے یا نہیں علمائے پیلی بھیت ایک شب میں شبینہ ہونا نا جائز و حرام بتاتے ہیں ۔ از راہ کرم اگر جائز ہے تو مع دلیل ثبوت کے ساتھ تحریر فرمائیں اور اگر نا جائز و حرام ہے تو مع دلیل ثبوت کے ساتھ تحریر فرما ئیں مگر بہت بزرگ ایک رات میں قرآن عظیم ختم کیا کرتے تھے اور حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تو یہ شان تھی کہ گھوڑے پر سوار ہوتے ہوتے قرآن پاک ختم کر لیا کرتے تھے تو اسکی کیا وجہ ہے؟ السائل : محمد عاقل محله شیرمحمد پیلی بھیت
الجواب: شبینہ کہ ایک یا چند حافظ مل کر کرتے ہیں مکروہ ہے۔ اکابر نے ایک رات میں برسوں ختم فرما یا وہ خاص اپنے تھے نہ کہ جماعت میں جس میں ہر قسم کے لوگ ہوں خصوصاً اکثر بلکہ شاید کل وہی ہوں جو اسے بار سمجھیں اور ایک دوسرے سے گفتگو میں مشغول رہیں۔ حدیث صحیح میں ہے: اذا ام احدکم الناس فليخفف) اور ارشاد فرمایا : لا يسأم حتى تسأموا (۲) علمانے بنظر صحیح منع فرمایا۔ اقل مدت ختم قرآن عظیم تین دن فرمائی۔ پھر اگر شبینہ میں اتنی جلدی کریں کہ یعلمون تعلمون کے سوا کچھ سنائی نہ دے یا حروف اپنے مخارج سے ادا نہ ہوں یا س ،ص ، ذ، ز، ظ، ت، ط“ کا احتیاط نہ رہے یہ ہمیشہ ناجائز و حرام ہے اور ایسے طور پر جو شبینہ بین مشتمل ہوضرور ناجائز وحرام ہوگا۔ اور حفاظ زمانہ کا یہی حال ہے۔ لہذا عدم جواز کا حکم یہ اعتبار مذکور صحیح ہے۔ در مختار میں ہے: ویاتی الامام والقوم بالثناء فى كل شفع ويزيد الامام على التشهد الا ان يمل القوم فياتى بالصلوات ويترك الدعوات ويجتنب المنكرات هذرمة القرأة وترکتعو ذوتسميةوطمانينة(۳)واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ القوی ۱۰ رشوال المکرم ۱۳۹۷ھ