نماز اور خارج نماز میں تلاوت قرآن کے وقت نیت کا حکم
نماز، خارج نماز میں وقت تلاوت کیا نیت ہونی چاہئے؟ بخدمت عالی جناب حضرت علامہ مفتی اعظم از هری صاحب قبلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نماز میں صرف قراءت ہی کے ارادہ سے سورہ فاتحہ پڑھے اور اس کے اندر کی آیات دعائیہ پر دعا کا ارادہ اور نیت نہ کرے یعنی آیات ہدایات کو پڑھتا تو ہے مگر دل میں ان کو مانگنا نہیں چاہتا ہے تو کیا زید کی نماز ادا ہو سکتی ہے۔ جب کہ وہ قرآن کی ہر ہر آیت اور حرف پر ایمان رکھتا ہے اسی طرح ایصال ثواب نیاز اور فاتحہ بھی کرتا ہے تو کیا درست اور صحیح ہوں گے۔ بینوا بالدلیل والکتاب تو جر وایوم الحساب۔ المستفتی: عبد اغنی سنی حنفی خادم مدرسه مقبول نگر ، کرناٹک
الجواب: آیت رحمت سے گذرے تو اللہ کی رحمت مانگے اور آیت وعید عذاب پڑھے تو اللہ سے پناہ چاہے اور سب دل ہی دل میں کرے۔ اس کے اس مقصد سے نماز میں خلل نہ آئے گا جبکہ تلاوت کی نیت سے قرآن پڑھ رہا ہے۔ نماز و خارج نماز ہر جگہ یہ ادب ملحوظ رکھا جائے اور اسے چھوڑ نا نہ چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القولی