مخرج ضاد اور اس کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حضور مفتی اعظم ہند اس مسئلہ کی بابت میں سورہ فاتحہ کے آخر میں ”الضالین کا تلفظ دالین“ ہے یا کہ ذالین»؟ بحکم شرع مفصل جواب سے نوازیں۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
نہ دالین ہے نہ ذالین ہےض کو اللہ تعالیٰ نے تمام حروف سے جدا پیدا کیا ہے اس کا مخرج حافہ لسان کا داہنی یا بائیں داڑھ سے لگتا اور باقی زبان کا کچلیوں سے ہوکر تالو سے لگ جانا ہے۔ض کو اس کے صحیح مخرج سے نکالنا فرض ہے اور مشابہ دال یا ذال یا ظاء پڑھنامفسد نماز ہے اور قصداً ایسا کرنا کفر ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله
۴ / رمضان المبارک جمعہ ۱۴۰۰ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۲۷۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
نماز کی فرضیت ضروریات دینیہ سے ہے اور اس کا منکر کافر ہے
باب: کتاب الصلوٰۃ
نماز اور خارج نماز میں تلاوت قرآن کے وقت نیت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
تارک نماز کے کفر کا حکم، وہابیوں سے موازنہ اور عورتوں کے لیے ساڑی کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
ایک حرف کو دوسرے حرف سے بدل کر پڑھنے والے کے پیچھے نماز نا درست ہے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ، قرات خلف الامام، رفع یدین اور دیگر مسائل سے متعلق سوالات
باب: کتاب الصلوٰۃ