نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ، قرات خلف الامام، رفع یدین اور دیگر مسائل سے متعلق سوالات
(1) نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟ اور حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اس حدیث سے کیا ثابت ہوتا ہے: و اذا صلی علیہ کبر ثم قرأ الفاتحة حصن و حصین۔ اس حدیث کے صحیح ہونے یاضعیف ہونے کے سلسلے میں کچھ تحریر کریں اور ہر ایک راوی کے متعلق بھی کچھ تحریر کریں کہ ان میں کون سا راوی ضعیف ہے؟ (۲) اور قرآت خلف امام کے متعلق بھی تحریر کریں کہ یہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کو ضروری قرار دیتے ہیں اور یہ حدیث سناتے ہیں کہ لا صلاة الابفاتحة الکتاب اس حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی دلیل قومی ہے، نہ ہو تو واضح فرمائیں کہ اس حدیث کا کیا مفہوم ہے اور اس حدیث کی کیا مراد ہے؟ بینوا توجروا۔ جواب صحیح عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں؟ (۳) رفع یدین کے سلسلے میں جو احادیث مذکورہ ہیں آیا وہ احادیث قوی ہیں یا ضعیف؟ بغیر رفع یدین والی احادیث قومی زیادہ ہیں یا رفع یدین والی حدیث؟ یہاں اہل حدیث حضرات کہتے ہیں کہ رفع یدین والی احادیث زیادہ قوی ہیں اور حنفیہ مقلدین کو لعنت ملامت کرتے ہیں کہ تم لوگ احادیث صحیحہ کے اوپر عمل نہیں کرتے ہو۔ یہ کہاں تک صحیح ہے؟ کیا حنفیہ کے دلائل ضعیف ہیں؟ بینوا توجروا (۴) امام کے پیچھے آمین بالجہر کے سلسلے میں تحریر کریں کہ جو احادیث آمین بالجہر کے سلسلے میں ہیں آیا یہ احادیث صحیح ہیں، یاد و احادیث صحیح ہیں کہ جس میں آمین بالسر کا حکم ہے؟ تو اس سلسلہ میں یہ واضح کریں کہ ان احادیث میں کون سی احادیث ضعیف ہیں اور کون سی احادیث صحیح ہیں، یہاں پر اہل حدیث کا دعوی ہے کہ ہم حدیث کے اوپر عمل کرتے ہیں اور حنفیہ ہوئی کے اوپر عمل کرتے ہیں۔ کیا یہ لوگ اپنے قول میں بیج ہیں؟ (۵) اہل حدیث ناف کے اوپر والی احادیث کو قوی بتاتے ہیں، زیر ناف والی احادیث کو ضعیف بتاتے ہیں۔ یہ کہاں تک صحیح ہے؟ اگر تحت السرۃ والی احادیث صحیحہ ہیں تو ان احادیث کو مع روایت کے نقل کریں اور اگر فوق السرۃ والی احادیث ضعیف ہیں تو ان روایت کو بھی نقل کریں اور یہ واضح کریں کہ اس حدیث میں فلاں راوی ضعیف ہے اور ضعف کی وجہ بھی تحریر فرمائیں اور محدثین کے اقوال بھی نقل کریں کہ کن محدثین کے نزدیک یہ قابل قبول ہیں۔ لمستقلتی محمد برایم بسرائے میرا، قنوج
الجواب: (۱، ۲) حنفیہ کے نزدیک نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ بہ نیت قرآت مشروع نہیں ، ہاں بہ نیت ثناء و دعاء پڑھنے کی اجازت ہے كما هو فى عامة الکتب۔ اور یہی مذہب حضرت عمر اور ابن عمر و حضرت علی مرتضیٰ اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور امام مالک و امام ثوری رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ہے کما فی الغنیه وشرح سفر السعادة وغيرهما () اور امام شافعی اور امام احمد اور اسحاق رضی اللہ تعالی عنہم کا مذہب یہ ہے کہ قرآت فاتحہ نماز جنازہ میں فرض ہے ، اس لئے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : لاصلاة الابفاتحة الكتاب (۲) اور فرمایا: ”ولا صلاة الا بقرأة (۳) یعنی نماز بغیر فاتحہ کے نہیں ہوتی اور فرمایا کہ نماز بے قرآت کے نہیں ہوتی اور نماز یہ ہے کہ طہارت اور استقبال قبلہ اس میں شرط ہے۔ نیز حدیث جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دلیل لائے جس میں وارد ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر ۴ تکبیریں کہیں اور تکبیر اولیٰ کے بعد سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی۔ اور حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے دلیل پکڑی جس میں مروی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ایک جنازہ کی نماز پڑھائی تو اس میں سورہ فاتحہ بالجبر پڑھی اور فرمایا کہ میں نے سورہ فاتحہ اس لئے آواز سے پڑھی تا کہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔ ہماری دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ آپ سے نماز جنازہ کے متعلق سوال ہوا: کیا اس میں قرآت ہے؟ آپ نے فرمایا: ((لم يُوقت لنا رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم قولا ولا قرأة وفي رواية ((دعاء ولا قرأة كبر ماكبر الامام و اختر من اطيب الكلام ماشئت)) وفي رواية ((واختر من الدعاء اطيبه )) یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمارے لئے کوئی قول یا دعا اور قرآت کو معین نہ فرمایا، امام کے ساتھ تکبیر کہ اور بہتر کلام یا بہتر دعا میں سے جو تو چاہے، اختیار کر۔ اور ہماری دلیل وہ حدیث بھی ہے جو حضرت عبد الرحمن بن عوف اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: ليس فيها قرأة شي من القرآن نماز جنازہ میں قرآت نہیں۔ هذا كله من البدائع اور حضرات شافعیہ قدست اسرار ہم کے استدلال ”لاصلاة الابفاتحۃ الکتاب“ سے نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کی فرضیت پر بہ چند وجو محل نزاع ہے: اولاً: نماز جنازہ حقیقتہ نماز نہیں اسی لئے اس میں وہ ارکان جن سے حقیقت نماز مرکب ہوتی ہے مثلاً رکوع وسجود موجود نہیں۔ بلکہ اسے صلاۃ بلحاظ دعاء کے لغوی معنی پر کہتے ہیں۔ اور استقبال قبلہ اور طہارت کی شرط سے اس کا صلاۃ حقیقہ ہونا ثابت نہیں ہوتا ، جیسے سجدہ تلاوت، کہ وہ نماز نہیں حالانکہ اس میں استقبال قبلہ اور طہارت شرط ہے۔ تو یہ حقیقہ میت کیلئے دعا ہے اور دعاء بطور مقدمہ حمد وثناء وصلاۃ و سلام بر نبی خیر الا نام کا محل ہے نہ کہ قرآت کا، قرآت تو سرے سے فرض ہی نہیں نہ کہ سورہ فاتحہ بعینہ فرض ہو۔ بدائع میں ہے: ولأنها شرعت للدعاء ومقدمة الدعاء الحمد والثناء والصلاة على النبي صلى الله تعالى عليه وسلم لا القرأة، وقوله صلى الله عليه وسلم (( لا صلاة الا بفاتحة الكتاب)) ((ولا صلاة الا بقرأة لا يتناول صلاة الجنازة لانها ليست بصلاة على الحقيقة انما هي دعاء واستغفار للميت الاترى أنه ليس فيها الأركان التي تتركب منها الصلاة من الركوع والسجود الا أنها تسمى صلاة لما فيها من الدعاء واشتراط الطهارة واستقبال القبلة فيها لا يدل على كونها صلاة حقيقية كسجدة التلاوة اور ہمارے دعوی کی مؤید محمدہ تعالیٰ وہ حدیث بھی ہے جو امام مالک نے موطا میں نافع کی روایت سے ابن عمر سے روایت فرمائی کہ انہوں نے نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی ، وهذ انصہ : و حدثني عن مالك عن نافع ان ابن عمر كان لا يقر أفي الصلاة على الجنازة (1) نیز اسی میں سید ابن ابی سید المقبری سے مروی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا کہ نماز جنازہ کس طرح پڑھتے ہو؟ ابو ہریرہ نے فرمایا کہ میں خدا کی قسم تجھے خبر دونگا، میں جنازہ کے پیچھے اس کے اہل سے چلتا ہوں تو جب جنازہ رکھ دیا جاتا ہے، تکبیر کہتا ہوں اور حمد الہی بجالاتا ہوں اور اس کے رسول پر درود بھیجتا ہوں پھر کہتا ہوں: اللهم عبدک و ابن عبدك و ابن أمتك كان يشهد ان لا اله الا انت وأن محمدا عبدک و رسولک وانت اعلم به اللهم ان كان محسنا فزد في حسناته وان كان مسياً فتجاوز عن سيأته اللهم لا تحرمنا اجره ولاتفتنا بعده (۲) اگر سورہ فاتحہ نماز جنازہ میں حضور سے ثابت ہو تو ابن عمر جو غایت درجہ اتباع سنن پر حریص تھے ان سے ترک سورہ فاتحہ متصور نہ تھا اور ابوہریرہ سے یہ امر مخفی نہ رہتا اللہ تعالیٰ اعلم ثانياً:لاصلاة الابفاتحة الكتاب ولا صلاة الا بقرأة میں صلاۃ مطلق ہے اور مطلق فرد کامل کی طرف متصرف ہوتا ہے، کما هو المقرر فی اصول الفقہ اور صلاۃ کا فرد کامل صلاۃ مطلقہ ہے یعنی نماز جس میں رکوع و سجود وغیرہ ارکان ہوں تو مطلق اسی پر صادق، اسی لئے اس کو صلاۃ مطلق کہتے ہیں۔ اور اس کے ماوراء کو شامل نہ ہوگا، اسی بدائع میں ہے: ولانها ليست بصلاة مطلقة فلايتنا ولها مطلق الاسم (س) ثالثاً : حدیث ابن عباس جو ابھی گزری، احادیث عمر ابن مسعود وابن عمر وابن عوف کے معارض ہے اور اس صورت میں ترجیح ان احادیث کو ہے۔ فان العمل بما فیہ الاکثر ۔ رابعاً: وہ خود شافعیہ کے مدعا میں مفید نہیں کہ اسمیں وارد ہوا : ليتعلموا انها سنة“ میں نے سورۃ فاتحہ جہرایوں پڑھی کہ جان لو کہ وہ سنت ہے، تو اس کا ظاہر بالکل مخالف شافعیہ ہے۔ اسی لئے علماء شافعیہ نے بیان سنت کو اپنے ظاہر پر نہ چھوڑا بلکہ تاویل کی کہ فاتحہ پڑھنا طریقہ مرویہ ہے اور بدعت نہیں ۔ مرقاۃ ملا علی قاری میں ہے: قال الطیبی ای لیست بدعة قال الأشرف الضمير المؤنث لقرأة الفاتحة وليس المراد بالسنة انها ليست بواجبة بل ما يقابل البدعة اى انها طريقةمروية وهذا التاويل على مذهب الشافعی و احمد وقال ابو حنيفة ليست بواجبة با وجود اس تاویل کے فرضیت فاتحہ ثابت نہیں ہوگی کما لا یخفی۔ خامساً: پھر اسے طریقہ مرویہ بتانا بھی محل نظر ہے جبکہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی احادیث سے ثابت کہ یہ حضرات سورۃ فاتحہ نہ پڑھتے تھے۔ اور ابن مسعود وابن عمر وابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ارشادات پہلے گزرے اسی لئے فتح القدیر میں فرمایا: "قالوالايقرءالفاتحة الا ان يقرأها بنية الثناء ولم تثبت القراة عن رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم وفی مؤطا مالک عن نافع أن ابن عمر كان لا يقرأها في الصلاة على الجنازة اه كذا فی مرقاة المفاتيح اسی لئے مرقاۃ میں اسی کے متصل فرمایا : ولهذا يعلم ضعف قوله أى انها طريقة مروية “ یہاں سے ظاہر ہے کہ اس امر کی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف نسبت میں تردد ہے۔ اسی مرقاۃ میں زیر حدیث مروی: عن ابن عباس ان النبي صلى الله تعالى عليه وسلم قرأ على الجنازة بفاتحة الكتاب رواه الترمذى وابوداد و ابن ماجه قال ابن ملک و به قال الشافعي قلت مع عدم تعیین دلالته على ان القرأة كانت على الميت او فى الصلاة عليه و بعد أى تكبيرة من تكبيراتها الحديث ضعيف لا يصح الاستدلال به رواة الترمذي) وقال ليس اسناده بذالک القوى قال میرک يشير الى ان فی سنده ابا شیبة ابراهيم ابن عثمان الواسطى وهو ضعيف منکر الحدیث‘ (1) یہ نہ کہا جائے کہ حدیث ابن عباس ميں ليتعلموا أنها سنة “(۲) وارد ہوا تو یہ قول صحابی ”من السنة كذا “ کی قبیل سے ہوا۔ اور وہ حکم میں مرفوع ہے اسلئے کہ طلبی سے ابھی گزر چکا کہ مطلب یہ ہے کہ بدعت نہیں تو یہاں سنت مقابل بدعت کے ہوا نہ یہ کہ حدیث ابن عباس مرفوع ہوا اور قرآت فاتحہ برسبیل مواظبت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔ مرقاۃ میں اسی سے فرمایا: وليس هذا من قبيل قول الصحابي من السنة كذا فيكون في حكم المرفوع كما تو همه ابن حجر فتدبر (۳) اور اس کے مؤید محمدہ تعالیٰ وہ ہے کہ امام طحاوی نے امام مالک سے نقل فرمایا کہ قرآت فاتحہ نماز جنازہ میں ہمارے شہر یعنی مدینہ پاک سے معروف نہیں طحطاوی علی المراقی میں عینی شرح باری سے ہے : واجاب عنه الطحاوی بان قرأة الفاتحة من الصحابة لعلها كانت على وجه الدعاء (1) لا على وجة التلاوة، وقد قال مالك: قرأة الفاتحة ليس معمولاً بها في بلدنا في صلاة الجنازة - اه )) قلت ولئن سلم ما قاله ابن حجر رضی الله تعالی عنه قال ابن حجر اذ ڈاک خالف مذهب فتعين ما قاله الطیبی وتبین ان لا منافاة بین حدیث ابن عباس و بین ما قال ابن الهمام من ان القرأة لم تثبت عن رسول الله صلی اللہ تعالی علیه وسلم) تدبر اور حدیث جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو صدر کلام میں گزری ہمارے ائمہ حنفیہ کے نزدیک اس پر محمول ہے کہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فاتحہ برسبیل شناء دعا پڑھی اور یہ ہمارے ائمہ کے نزدیک جائز ہے۔ صرح به فی البدائع وشرح سفر السعادة وغيرهما امر ما اجابه الطحاوی فی کلام الطحطاوی آنفافتذکر وتدبر۔ سادساً: حضرات شافعیہ کا قرآت فاتحہ کی فرضیت پر استدلال نماز جنازہ تو نماز جنازہ صلاۃ مطلقہ ہی میں سرے سے محل نظر ہے کہ ” لا صلاۃ الا بفاتحة الکتاب“ خبر واحد ہے اور خبر واحد سے کتاب پر زیادتی جائز نہیں اور کتاب اللہ میں : فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ (۳) مطلق ہے جس کی رو سے مطلق قرآت فرض ہے اب اگر سورۃ فاتحہ کی قرآت فرض قرارد یجئے تو نص قطعی کے موجب اطلاق کا دلیل ظنی سے ابطال لازم آئے گا اور یہ جائز نہیں۔ اسی لئے ہم حنفیہ کہتے ہیں کہ حدیث پر یوں عمل کیا جائے کہ سورۃ فاتحہ کو واجب اور مطلق قرآن کو فرض قرار دیا جائے اور حدیث ہمارے یہاں نفی کمال پر محمول ہے اور یہ اگر چہ خلاف ظاہر لفظ ہے جیسا کہ علامہ امام نووی نے فرمایا لیکن اس کا ارتکاب نص قطعی کی وجہ سے واجب ہے اور فی الحقیقت یہ الزام مشترک ہے یعنی خلاف ظاہر لفظ کا ارتکاب ہم نے بھی کیا اور انہوں نے بھی کیا لیکن نص قطعی کے موجب کو بچانے کیلئے دلیل ظنی میں خلاف ظاہر کرنا اولیٰ ہے کما لا یخفی پھر حدیث کے جو معنی ہم نے بتائے وہ حدیث مسلم سے بحمدہ تعالیٰ مؤید ہے۔ اور حدیث یہ ہے: عن ابي هريرة عن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم من صلى صلاة لم يقرأ فيها بأم القرآن فهى خداج ثلاثا و غير تام - الخ (1) یعنی جس کسی نے نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نا تمام ہے (حضور نے تین مرتبہ فرمایا ) ۔ نووی شرح مسلم میں ہے: قال الخليل بن احمد والاصمعى وابو حاتم السجستاني والهروى رحمهم الله تعالى وآخرون الخداج النقصان يقال خدجت الناقة اذا القت ولدها قبل او ان النتاج وان كان تام الخلق واخدجته اذا ولدته ناقصا وان كان لتمام الولادة الخ (۲) بلکہ یہ حدیث لا صلاۃ الابفاتحة الکتاب سے مراد کی تفسیر ہے اور اگر سورہ فاتحہ کی قراۃ فرض ہوتی تو حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اعرابی کو ( جس نے نماز اچھی طرح نہ پڑھی ) سورۃ فاتحہ کی تعلیم ترک نہ فرماتے اور اقرء ما تيسر معك من القرآن (۳) پر اکتفانہ فرماتے۔ والحدیث فى صحيح مسلم فراجعه هذا ما علقناه على قول النووى فان قالوا: المرادلا صلاة كاملةقلنا هذا خلاف ظاهر اللفظ الخ مترجما ومزيدا ولله الحمام) اگر کہا جائے کہ : (1) الصحيح المسلم ، ج ۱، ص ۱۶۹ ، باب وجوب قراة الفاتحة في كل ركعة، مجلس بركات (۲) شرح مسلم للنووى باب وجوب قرأة الفاتحة في كل ركعة ، ج ۱، ص ۱۶۹/۱۷۰ ، مجلس بركات (۳) فتح القدير، ج ۱، ص ۳۴۰، کتاب الصلاة، فصل في القرأة ، مجلس بركات (۴) شرح مسلم للنووى، باب وجوب قرأة الفاتحة في كل ركعة، ج ۱، ص ۱۷۰ مجلس بركات فاقرأماتيسر معك من القرآن فمحمول على الفاتحه فانها ميسرة ) تو سورہ فاتحہ پر محمول ہے اسلئے کہ وہ میسرہ ہے۔ قال النووی: فانها میسره (۲) اور ابوداؤد کی روایت یہی ہے: اذا قمت الى فتوجهت الى القبله فكبر ثم اقرأ بأم القرآن وبما شاء الله ان تقرأ (۳) ہم کہیں گے سورہ فاتحہ پر حمل کرنا وہی خلاف ظاہر لفظ کا ارتکاب ہے اور وہ بالا تفاق ممنوع ہے جب تک کہ فرضیت فاتحہ کسی اور دلیل سے ثابت نہ ہو جائے یہ اپنے اطلاق پر باقی رہے گا اور حدیث ابی داؤد کا جواب یہ ہے کہ اسکی دوسری روایت خود اسکا معارض ہے کہ اس میں وارد ہوا : فتوضا كما امره الله ثم اقرء وكبر فان كان معک قرآن فاقرء به والا فاحمد الله و کبره و هلله (۴) اس روایت سے صاف ظاہر کہ فاتحہ فرضیت کیلئے متعین نہیں بلکہ فرضیت مطلق قرآن سے حاصل ہو جاتی ہے ورنہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سورہ فاتحہ کوضر ور متعین فرماتے تو روایت اولی میں: ثم اقرأ بأم القرآن وبما شاء الله أن تقرأ وجوب(ه) تحمیل صلاۃ کیلئے معمول اور یہ بیان فرض پہ حمول ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ یہ الفاظ مختلفہ ایک ہی حادثہ میں فرمائے گئے۔ پھر بالمعنی روایت کرنے والوں نے بعض جمل پر اقتصار فرمالیا توتطبیق یوں ہوگی : فان كان معك شئ من القرآن والا فكبره الخ وان كان معك فاقرأ بأم القرآن و بما شاء الله (1) (1) فتح القدير ، ج ۱، ص ۳۴۰، کتاب الصلاة، فصل في القرأة، مكتبه زكريا (r) شرح مسلم للنووى باب وجوب قرأة الفاتحة في كل ركعة ، ج ۱، ص ۱۷۰ مجلس بركات (۳) فتح القدير، ج ۱، ص ۳۰۰، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، مرکز اهل سنت برکات رضا (۴) فتح القدير، ج ۱، ص ۳۰۰ ، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، مرکز اهل سنت برکات رضا (۵) فتح القدير، ج ۱، ص ۳۰۰ ، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، مرکز اهل سنت برکات رضا (1) فتح القدير، ج ۱، ص ۳۰۰، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، مرکز اهل سنت برکات رضا یعنی اگر تجھے قرآن میں کچھ بھی یاد ہو تو اسے پڑھ ورنہ تکبیر و تہلیل کر اور اگر تجھے سورۃ فاتحہ یاد ہو تو وہ اور جو اللہ تعالیٰ چاہے پڑھ۔ قال في الفتح وفي ابي داؤد من حديث المسئ صلاته اذا قمت فتوجهت الى القبلة فكبر ثم اقرأ بام القرآن وبما شاء الله ان تقرء وفى رواية رواها قال فيها فتوضأ كما امرک الله ثم اقرأ و كبر فان کان معک قرآن قاقرء به والا فاحمد الله وكبره وهلله فالاولى في الجمع الحكم بانه قال له ذلک کله ای فان کان معک شئ من القرآن والا فكبره الخ وان كان معك فاقرء بام القرآن وبما شاء الله ثم ان الرواة رووه بالمعنى مع اقتصار بعضهم ،، على بعض الجمل المنقولة فتأمله وبه يندفع التعارض “(۱) پھر اسی حدیث روایت ابن داؤد میں نظر کیجئے تو یہ مدعائے شافعیہ ( کہ سورہ فاتحہ کو فرضیت کیلئے معین کرتے ہیں ) صریح مخالف ہے کہ اس میں وارد ہوا : ثم اقرء بأم القرآن وبما شاء الله (۲) جس کا مقتضی یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت بھی واجب اور یہ مدعائے شافعیہ کے خلاف ہے کہ ضم سورت ان کے یہاں واجب نہیں اور ہمارے موافق ہے کہ ہمارے یہاں سورہ فاتحہ اور ضم سورت واجب ہے ہاں وجوب ہمارے یہاں دون الفرض ہے تو جو ان کا جواب ضم سورت کی عدم فرضیت کے متعلق ہوگا وہی ہمارا جواب فاتحہ کی عدم فرضیت کے بارے میں ہوگا اور یہ اس صورت میں ہے کہ واؤ کو بھی ” مع “ کے معنی میں لیجئے اور اگر بمعنی ”اؤ کے لیے تو معنی یہ ہوں گے کہ سورۃ فاتحہ پڑھو یا جو اللہ چاہے پڑھو اور اس صورت میں عدم تعین اور ظاہر ہوگی بلکہ عدم تعین خود اس حدیث میں جسے طبرانی و حارثی وامام المعظم ابوحنیفہ نے روایت کی مصرح ہے وہ حدیث یہ ہے: عن ابي هريرة رضى الله تعالی عنه امرنی رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم ان انادى فى أهل المدينة ان فى كل صلاة قراءة ولو بفاتحة الكتاب“ رواه الطبراني في الاوسط ) یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ فرماتے ہیں مجھے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اعلان کروں کہ نماز بے قرآت کے نہیں ہوگی اگر چہ سورۃ فاتحہ ہی پڑھ لے۔ کمافی الفتح: قال فيه حجاج بن ارطاة وثقه اناس مسلم ابن ابی نجیح وسفيان الثورى وقال العجلي جائز الحديث و ابو طالب عنه كان من الحفاظ والوزرا صدوق مدلس والبزاز كان حافظا مدلساذكره الحافظ وتم شعبة غيره علی حانی میزان الدحی - حاصل یہ کہ طبرانی کی روایت میں حجاج ابن ارطاۃ ہے جس کی بہت ساروں نے توثیق کی ہے ان میں سے ابن ابی بیج اور سفیان ثوری اور ابوطالب اور ابوسدعۃ اور بزار وشعبہ وغیر ہم محدثین کبائر ہیں تو اسکی سند ضعیف نہیں اور اگر سند کو ضعیف مان بھی لیں تو متن کا ضعف لازم نہیں کہ اس کا معنی ( جو عدم تعین فاتحہ ہے ) متعدد احادیث سے کہ اذا لجملة اقرء بما تیسر معک من القرآن ہے بلکہ خود آیت فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ (۲) سے ثابت ہے تو وہ ہمارے مدعا کی عین مؤید ہے واللہ الحمد۔ ہمارے نزدیک حدیث رائے مجرد پر مقدم ہے اگر چہ ضعیف ہو ، لا جرم مرقاۃ میں فرمایا: ولو صح ضعفه ، فهو يقوى المعنى المراد على ان الحديث الضعيف عندنا مقدم على الراى المجرد (۳) پھر یہ حدیث بطریق متعددہ مروی ، اور تعدد طرق سے ضعف منجر ہوجاتا ہے۔ وقدسر دطرقہ فلحاشية المسند الامام الاعظم فليراجع بالجملہ حدیث : لاصلاة الابفاتحة الكتاب مدعاۓ شافعیہ میں نص نہیں کہ بسا اوقات ایسا کلام نفی کمال و فضیلت کیلئے بولتے ہیں جیسے حدیث میں آیا: لا صلاة لجار المسجد الا فی المسجد (ه) (1) المعجم الاوسط للطبرانی، باب من اسمه الهیثم حدیث نمبر ۹۴۱۵ ، مطبع دار الحرمين، القاهره (۲) سورة المزمل : ٢٠ (۳) المرقاة شرح مشکوة، ج ۲، ص ۵۰۶ ، کتاب الصلوۃ، باب القرات في الصلوة، دار الكتب العلمية بيروت (۴) شرح معانی الآثار، ج ۱، ص ۲۶۶ ، باب من صلی خلف الصف وحده المكتبة الاشرفيه اور ” لا صلاة للعبد الابق “ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جار مسجد کی نماز غیر مسجد محلہ میں نہ ہوگی نہ حدیث دیگر کا مطلب یہ کہ بھاگے ہوئے غلام کی نماز نہیں ہوتی۔ بلکہ یہاں نفی فضیلت مراد ہے اسی طرح " لا صلاة الابفاتحة الكتاب “ میں بحکم عرف وہی نفی کمال مراد ہے اور اگر فی حقیقت ہی راجح ما نہیں تو احتمال دیگر اب بھی قائم اور وہ قطعیت کے منافی تو حدیث ظنی الثبوت ظنی الدلالۃ ہوئی اور اب فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ) قطعی الثبوت قطعی الدلالۃ کا معارض نہیں ہوسکتا پھر اسکی قطعیت دلالت میں دوسری احادیث درج ہے کہ بعض سورۃ فاتحہ کے ساتھ ضم سورت یا ضم آیتوں کو واجب کرتی ہیں شافعیہ ضم سورت کے وجوب کے قائل نہیں۔ اور بعض مطلق قرآت کو واجب فرماتے ہیں لامحالہ سورہ فاتحہ کا عدم افتراض صلاۃ مطلقہ میں ثابت تو نماز جنازہ میں بدرجہ اولیٰ قرآت فاتحہ فرض نہیں۔ شافعیہ اسی حدیث لاصلاة الابفاتحة الكتاب“ سے قرآت خلف الامام پر دلیل لاتے ہیں اور امام کے پیچھے قرآت فاتحہ مقتدی پر لازم کہتے ہیں۔ اور یہ حدیث ان کے عمدہ ترین دلائل سے ہے۔ جسے ان کا مدار مذہب کہا جائے۔ جواب اس حدیث سے چند طور پر ہے یہاں اسی قدر کافی کہ یہ حدیث تمہارے مفید نہ ہمارے مضر ، ہم خود مانتے ہیں کہ کوئی نماز ذات رکوع و سجود بے فاتحہ کے تمام نہیں امام کی ہو خواہ ماموم کی مگر مقتدی کے حق میں خود رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کیلئے امام کی قرآت کافی اور امام کا پڑھنا بینم اس کا پڑھنا ہے سید نا امام الائمہ، سراج الامہ کا شف الغمہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کو فی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعن مقلد یہ باحسان روایت فرماتے ہیں: حدثنا ابو الحسن موسی ابن ابی عائشة عن عبد الله بن شداد بن الهاد عن جابر بن عبد الله (رضی الله تعالى عنهما ) عن النبي صلى الله تعالى عليه و سلم انه قال: من صلی خلف الامام فان قرأة الامام له قرأة یعنی حضور اقدس سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کا پڑھنا اس کا پڑھنا ہے یہ حدیث صحیح ہے ۔ رجال اس کے سب رجال صحاح ستہ نہیں، ورواه محمدهكذامر فوعاً من طريق آخر ۔ حاصل حدیث کا یہ ہے کہ مقتدی کو پڑھنے کی کچھ ضرورت نہیں امام کا پڑھنا اس کیلئے کفایت کرتا ہے۔ هكذا روى عند محمد رحمه الله تعالى مختصراً ورواه الامام تارة اخرى مستوعبا قال صلى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم بالناس فقرء رجل خلفه فلما قضی الصلاة قال ایکم قرء خلفی ثلث مرات قال رجل انا يا رسول الله صلى الله تعالی علیه وسلم قال صلى الله تعالی علیه و سلم من صلی خلف الامام فان قرأة الامام له قرأة (1) خلاصه مضمون یہ ہے کہ سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ایک شخص نے حضور کے پیچھے قرآت کی سید اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر ارشاد فرمایا کس نے میرے پیچھے پڑھا تھا لوگ بسبب خوف حضور کے خاموش ہورہے یہاں تک کہ تین بار بتکر ار یہی استفسار فرمایا آخر ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں نے ، ارشاد ہوا جو امام کے پیچھے ہو اس کیلئے امام کا پڑھنا کافی ہے۔ قال ابوحنیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایضا: عن حماد عن ابراهيم النخعى عن علقمة بن قيس ان عبد الله ابن مسعود كان لا يقرأ خلف الامام فيما يجهر فيه وفيما يخافت فيه الاوليين ولا في الاخريين واذا صلى وحده قرأفى الاوليين بفاتحة الكتاب وسورة ولم يقرأ فى الاخريين شيئا (۲) یعنی سید نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام کے پیچھے قرآت نہ کی نہ پہلی دورکعتوں میں نہ ان کے غیر میں۔ عبد اللہ بن مسعود اور کون عبد اللہ بن مسعود جو افاضل صحابہ ومومنین سابقین سے ہیں حضر وسفر میں ہمراہ رکاب سعادت انتساب حضور رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رہتے اور بارگاہ نبوت میں بے اذن جانا ان کیلئے جائز تھا بعض صحابہ فرماتے ہیں ہم نے راہ و روش سرور انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جو چال ڈھال ابن مسعود کی ملتی پائی کسی کی نہ پائی حدیث میں ہے خود حضور اکرم الا ولین والآخرین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: (۱) مسند الامام الاعظم، كفاية قرأة الامام للماموم، ص ٦١ ، مطبوعه نور محمد کارخانه تجارت کتب، کراچی (۲) مؤطا امام محمد رحمه الله باب القرأة خلف الامام ، ص ۱۰۰ ، مجلس بركات رضیت لامتی مارضى لها ابن ام عبد و کرهت لامتی ماکره لها ابن ام عبد )) میں نے اپنی امت کیلئے وہ پسند کیا جو عبد اللہ بن مسعود اس کیلئے پسند کرے اور اپنی امت کیلئے وہ نا پسند کیا جو عبد اللہ بن مسعود اس کیلئے نا پسند کرے۔ گویا ان کی رائے خود حضور والا کی رائے اقدس ہے اور معلوم ہے کہ جناب ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مقتدی ہوتے فاتحہ وغیرہ کچھ نہیں پڑھتے اور ان کے سب شاگردوں کا یہی وتیرہ تھا۔ قال محمد فی موطاه من طریق سفیانین : عن منصور ابن المعتمر عن ابى وائل قال سئل عبد الله بن مسعود عن القرأة خلف الامام قال انصت فان فی الصلاة شغلا سیکفیک ذاک الامام خلاصہ یہ کہ سید نا ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درباره قرآت مقتدی سوال ہوا، فرمایا خاموش رہ کہ نماز میں مشغولی ہے یعنی باتوں سے باز رہنا عنقریب تجھے امام اس کام کی کفایت کر دے گا یعنی نماز میں تجھے لا طائل باتیں روا نہیں اور جب امام کی قرآت بعینہ اس کی قرآت ٹھہرتی ہے تو پھر مقتدی کا خود قرآت کرنا محض لغو و ناشائستہ ہے۔ یہ حدیث اعلیٰ درجہ صحاح میں ہے اس کے سب رواۃ ائمہ کبار اور رجال صحاح ستہ ہیں۔ واما حدیث الامام عن ابن مسعود فوصله محمد : انا محمد بن ابان بن صالح القرشي عن حماد عن ابراهيم النخعي عن علقمة بن قيس ان عبد الله بن مسعود كان لا يقرء خلف الامام فيما يجهر وفيما يخافت فيه في الاوليين ولا في الاخريين واذا صلى وحده قرء في الاوليين بفاتحة الكتاب وسورة ولم يقرء في الاخريين شيئا حاصل یہ کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مقتدی ہوتے تو کسی نماز میں جہر یہ ہو یا سریہ کچھ نہ پڑھتے تھے نہ پہلی رکعتوں میں نہ پچھلی میں۔ ہاں جب تنہا ہوتے تو صرف پہلیوں میں الحمدو سورت پڑھتے ۔ امام مالک اپنی موطا میں اور امام حنبل رحمہا اللہ تعالیٰ اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں: (1) مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، حدیث نمبر ۱۵۵۶۸، باب ماجاء فی عبد الله بن مسعود، ج ۹، ص ۴۷۵ دار الفکر بيروت (۲) مؤطا امام محمد باب القرأة خلف امام ص ۹۹/۱۰۰ مجلس برکات (۳) مؤطا امام محمد باب القرأة خلف الامام، ص ۱۰۰ مجلس برکات وهذا سیاق مالک عن نافع ان عبد الله بن عمر رضی الله تعالى عنهما كان اذا سئل هل يقرء احد خلف الامام قال اذا صلی احدکم خلف الامام فحسبه قرأة الامام و اذا صلى وحده فليقر أقال وكان عبد الله بن عمر رضی الله تعالى عنهما لا يقرء خلف الامام یعنی سید نا وابن سید نا عبد اللہ بن امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے جب دربارہ قرأت مقتدی سوال ہو تا فرماتے جب کوئی تم میں امام کے پیچھے نماز پڑھے تو اسے قرآت امام کافی ہے اور جب اکیلا پڑھے تو قرآت کرے نافع کہتے ہیں عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما خود امام کے پیچھے قرآت نہ کرتے یہ حدیث غایت درجہ کی صحیح الاسناد ہے حتی کہ مالک عن نافع عن ابن عمر کو بہت محدثین نے صحیح ترین اسانید کہا ان احادیث صحیحہ و معتبرہ سے مذہب حنفیہ محمد اللہ ثابت ہو گیا کہ قرآت امام مقتدی کے لئے کافی ہے اور امام کا پڑھنا بعینہ اس کا پڑھنا ہے۔ پس خلاف ارشاد حضور والا تم نے کہاں سے نکال لیا کہ مقتدی جب تک خود نہ پڑھے گا نماز اسکی بے فاتحہ رہے گی اور فاسد ہو جائے گی حالانکہ ہنوز فرضیت قرأت فاتحہ ہی ثابت نہ ہو سکی اور حدیث مسلم : من صلى صلاة لم يقرء فيها بأم القرأن فهى خداج هی خداج هی خداج حاصل یہ کہ جس نے کوئی نماز بے فاتحہ پڑھی وہ ناقص ہے ناقص ہے ناقص ہے اس کا جواب بھی بعینہ مثل اول کے ہے نماز بے فاتحہ کا نقصان مسلم اور قرآت امام قرآت ماموم سے مغنی۔ خلاصہ یہ کہ اس قسم کی احادیث اگر چہ لاکھوں ہوں تمہیں اس وقت بکار آمد ہونگی جب ہمارے طور پر نماز مقتدی بے ام الكتاب رہتی ہو، وهو ممنوع ، اور آخر حدیث میں قول حضرت سید نا ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ "اقرأ بها فی نفسک یا فارسی" کہ شافعیہ اس سے بھی استناد کرتے ہیں کہ جواب اولاً یہ ہے کہ وہ مذہب صحابی ہے جو احادیث متعددہ گزشتہ کے معارض ہے تو اس سے حجت قائم نہیں ہو سکتی ثانی وہ بھی محتمل ہے کہ یہ حکم صلاۃ سریہ میں ہو جب کہ امام مالک کا مذہب ہے اور محمد سے روایت ہے اگر چہ یہ روایت محض ضعیف ہے كما بسط المحقق على الاطلاق فقيه النفس مولانا كمال الملة والدين محمد رحمه الله تعالى كما قال فی الدر المختار (1) (خود تصانیف امام محمد میں جا بجا عدم جواز مصرح ) ہوسکتا ہے امام کے پڑھنے کا حکم ہو جیسا کہ مسبوق کو ثنا پڑھنے کی بعض نے اجازت دی یا دل میں پڑھنے کا حکم ہوا اور یہ احتمال اخیر اظہر ہے کمالا يخفی۔ مرقاۃ ملاعلی قاری میں ہے: ( قال اقرء بها) اى بأم القرآن فی نفسک) سرا غیر جهروبه أخذ الشافعى_وهو مذهب صحابي لا يقوم به حجة على أحد مع احتمال التقييد في الصلاة السرية كما قال به الامام مالک والامام محمد من اصحابنا، اوفى بين السكتان بين قرأة الامام، كما قيل للمسبوق في دعاء الاستفتاح او معناه فی قلبک باستحضار الفاظها او معناها (۲) اور حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ لا تفعلوا الابام القرآن امام کے پیچھے اور کچھ نہ پڑھو سوائے سورہ فاتحہ کے، سے استدلال اولا یہ کہ یہ حدیث ضعیف ہے ان حیح حدیثوں کی جو ہم نے مسلم اور ترمذی ونسائی و موطائے امام مالک و موطائے امام محمد وغیر ہ صحاح و معتبرات سے نقل کیں، کب مقاومت کر سکتی ہے امام احمد بن حنبل وغیرہ حفاظ نے اس کی تضعیف کی یحیی بن معین جیسے ناقد جن کی نسبت امام ممدوح نے فرمایا جس حدیث کو بیٹی نہ پہچانے حدیث ہی نہیں، فرماتے ہیں استثنائے فاتحہ غیر محفوظ ہے۔ ثانیا خود شافعیہ اس حدیث پر دووجہ سے عمل نہیں کرتے ایک یہ کہ اس میں ماورائے فاتحہ سے نہی ہے اور ان کے نزدیک مقتدی کو ضم سورت بھی جائز ۔ صرح به الامام النووی فی شرح صحیح مسلم۔ دوسرے یہ کہ حدیث مذکور جس طریق سے ابو داؤد نے روایت کی بآواز بلند منادی کہ مقتدی کو جہراً فاتحہ پڑھنا روا، اور یہ امر بالاجماع ممنوع - صرح به الشيخ في اللمعات ويفيده الكلام النووى فى الشرح۔ پس حدیث خود ان کے نزدیک متروک ہے ہم پر اس سے کس طرح احتجاج کرتے ہیں؟ بالجملہ ہمارا مذہب مہذب بحمد اللہ حج کا فیہ و دلائل وافیہ سے ثابت اور مخالفین کے پاس کوئی دلیل قاطع ایسی نہیں کہ اسے معاذ اللہ باطل یا مضمحل کر سکے مگر اس زمانہ پر فتن کے بعض جہاں بے لگام جنہوں نے ہوائے نفس کو اپنا امام بنایا ہے اور نظام اسلام کو درہم برہم کرنے کیلئے تقلید ائمہ کرام میں خدشات واوہام پیدا کرتے ہیں جس ساز و سامان پر ائمہ مجتہدین خصوصاً امام الائمۃ حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعن مقلدیہ کی مخالفت اور جس بضاعت مزجات پر ادعائے اجتہاد وفقاہت ہے عقلائے منصفین کو معلوم اصل مقصود ان کا اغوائے عوام ہے کہ وہ بیچارے قرآن وحدیث سے ناواقف ہیں جو ان مدعیان خام کارنے کہہ دیا انہوں نے مان لیا، اگر چہ خواص کی نظر میں یہ باتیں موجب ذلت و باعث فضیحت ہوں اللہ سجنہ و تعالیٰ وساوس شیطان سے امان بخشے ۔ آمین ۔ هذا و العلم عند واهب العلوم العالم بكل سر مكتوم ملخصاً من الفتاوى الرضوية سيدى و سندی الامام اعلی حضرت احمدرضا قدس سره بتصرف فيه في بعض مواضع شيئاً (1) واللہ تعالیٰ اعلم ہمارا مذہب مہذب دربارہ رفع یدین یہ ہے کہ وہ تحریمہ کے ماوراء میں ہمارے یہاں مستحب نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہر گز کسی حدیث میں ثابت نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیشہ رفع یدین فرمایا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اس کا خلاف ثابت ہے ،نہ احادیث میں اسکی مدت مذکور ۔ ہاں حدیثیں اس کے فعل و ترک دونوں میں وارد ہیں ۔ سنن ابی داؤ دوستن نسائی و جامع ترمذی وغیر ہا میں ایسی سند سے ہے جس کے رجال صحیح مسلم ہیں۔ بطریق عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی: قال الا اخبركم بصلاة رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم قال فقام فرفع يديه اول مرة ثم لم يعد (٢) یعنی انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نماز کس طرح پڑھتے تھے یہ کہہ کر نماز کو کھڑے ہوئے تو صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھائے پھر نہ اٹھائے ترمذی نے کہا: حدیث ابن مسعود رضی الله تعالى عنه حدیث حسن وبه يقول غير واحد من اہل العلم من اصحاب النبى ا و التابعين وهو قول سفيان واهل الكوفة ) یعنی ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث حسن ہے اور یہی مذہب تھا متعدد علماء منجملہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و تابعین کرام و امام سفیان اور علمائے کوفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا۔ امام ابو جعفر طحاوی شرح معانی الآثار میں فرماتے ہیں: حدثنا ابو بكرة حدثنا مؤمل حدثنا سفيان عن المغيرة قال قلت لابراهيم حديث وائل انه رأى النبى صلى الله تعالى عليه وسلم يرفع يديه اذا افتح الصلاة واذا ركع واذا رفع رأسه من الركوع فقال ان كان وائل رأه مرة يفعل ذلك فقد رأه عبدالله خمسين مرة لا يفعل ذلك (٢) ،، یعنی مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے امام ابراھیم مخفی سے حدیث وائل کے بارے میں پوچھا کہ انہوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضور نے نماز شروع کرتے اور رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین فرمایا ابراہیم نے فرمایا وائل نے اگر ایک بار حضور کو رفع یدین کرتے دیکھا تو عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پچاس بار دیکھا کہ حضور نے رفع یدین نہ کیا صحیح مسلم شریف میں ہے: مالی اراکم رافعی ایدیکم کأنها اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلاة یعنی حضور نے فرمایا کہ مجھے کیا ہوا کہ میں تمہیں رفع یدین کرتے دیکھتا ہوں گویا تمہارے ہاتھ چنچل گھوڑوں کی دمیں ہیں۔ قرار سے رہو نماز میں اصول کا قاعدہ متفق علیہا ہے کہ اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ خصوص سبب کا اور حاظر صحیح پر مقدم ہے ہمارے ائمہ کرام نے احادیث ترک پر عمل فرما یا حنفیہ کو ان کی تقلید چاہئے ، شافعیہ وغیر ہم اپنے ائمہ رحمہم اللہ کی پیروی کریں کوئی محل نزاع نہیں ۔ ہاں وہ حضرات کہ تقلید ائمہ دین کو شرک و حرام جانتے ہیں اور بآنکہ علمائے مقلدین کا کلام سمجھنے کی بھی لیاقت نصیب اعدا اپنے لئے منصب اجتہاد جانتے ہیں اور خواہی نخوا ہی تفریق بین المسلمین کرنا چاہتے ہیں بلکہ اس کو اپنا ذریعہ شہرت و ناموری سمجھتے ہیں ان کے راستے سے مسلمانوں کو بہت دور رہنا چاہئے ۔رفع یدین کوئی واجب نہیں غایت درجہ اگر ٹھہرے گا ایک امر مستحب ٹھہریگا مگر فتنہ اٹھانا مسلمانوں کے دوگروہ کرنا شاید ان کے نزدیک اہم واجبات سے ہے۔ واللہ تعالیٰ ھو الموفق وھو تعالیٰ اعلم ۔ فتاویٰ رضویہ ملخصا متصرف فیہ (۴) آمین کے جہر واخفا میں احادیث متعارض آئی ہیں ہمارے علماء کے نزدیک اخفائے آمین مختار ہے اور احادیث جہر اول امر میں تعلیم پر محمول ہیں یعنی تعلیماً جہر فرمایا پھر اخفا فرمایا اور یہ اسلئے کہ حضرت ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ آمین کا اخفا فر ماتے اور آپ سے حدیث مروی کہ فرما یا چار چیزوں کا امام اختفا کرے اور ان میں آمین کو شمار فرمایا اور از آنجا کہ احادیث متعارض ہیں اس لئے ہم نے اللہ تعالیٰ کے قول درباره دعا ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً - الآية } () کہ اللہ تعالیٰ نے دعا میں اخفا کا حکم فرمایا رجوع کیا اور اس کی وجہ سے احادیث اخفا کو ترجیح دی اور نیز قیاس سے تمام اذکار وادعیہ پر ہم نے یہاں بھی اخفاء کو اختیار کیا نیز اس وجہ سے بھی اخفا اختیار کیا کہ آمین بالا جماع قرآن میں سے نہیں لہذ ا مناسب نہیں کہ قرآن کے لہجہ میں اسے بہ آواز پڑھا جائے جیسا کہ اسکی کتابت مصحف میں جائز نہیں اسی لئے اخفائے تعوذ پر اجماع ہے۔ اور تسمیہ کے جہر میں اختلاف اس پر مبنی ہے کہ وہ قرآن میں سے ہے یا نہیں؟ مرقاة میں ہے: ولما اختلف في الحديث عدل صاحب الهداية الى ماعن ابن مسعود انه كان يخفى فانه يؤيده أن المعلوم منه عليه السلام الاخفاء قلت: مع ان الاصل في الدعاء الاخفاء لقوله تعالى ( ادعوا ربكم تضرعا وخفية ولا شك ان آمین دعاء فعند التعارض يرجح الاخفاء بذلك وبالقياس على سائر الاذكار والادعية، ولأن آمين ليس من القرآن اجماعاً فلا ينبغى ان يكون على صوت القرآن كما انه لا يجوز كتابته في المصحف، ولهذا اجمعوا على اخفاء التعوذ لكونه ليس من القرآن والخلاف في الجهر بالبسملة مبنى على انه من القرآن ام لا - اه (1) وقدتيسر والقار الاحاديث المختلفة بطرقها فی مرقاته فليراجع۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) صحیحین میں، نماز میں ہاتھ پر ہاتھ دھرنے کا حکم مطلق فرمایا ہے خصوصیت کیفیت خواہ وضع اليدين تحت السرة يا فوق السرۃ کا ذکر نہیں وارد ہوا حنفیہ کیلئے کہ وضع اليدين تحت السرۃ کے قائل ہوئے تعظیم میں عرف شاہد ہے کہ تعظیما معظمین کے حضور ناف کے نیچے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جو ابوداؤ د واحمد نے حضرت علی سے روایت فرمائی اور وہ یہ ہے: عن على من السنة في الصلاة وضع الاكف على الاكف تحت السرة یعنی نماز میں ہتھیلی پر ہتھیلی ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے اور اگر چہ یہ ضعیف ہے کہ اس میں عبد الرحمن ابن الطلق واسطی مجمع علی ضعفہ ہے مگر حنفیہ کے مؤید ہے اور شافعیہ نے جو آیت کریمہ {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَالْحَرُ } () سے استدلال کیا تو لفظ انحر کا مدلول طلب محر وقربانی ہے نہ کہ ہاتھوں کا گردن کے پاس رکھنا پھر میدان کو مفید نہیں کہ سینہ پر ہاتھ رکھنا حقیقی گردن پر ہاتھ رکھنا نہیں تو لا محالہ یمنی کایسری پر رکھنا مطلق بے ذکر کیفیت ثابت ہے اور اس کا ناف کے نیچے یا سینے کے نیچے ہونا جب کہ شافعی نے کہا اس میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہوتی جب عمل واجب ہو تو عرف کی طرف ارادہ تعظیم کی حالت میں رجوع ہوگا اور عرف میں مشاہدہ ہے کہ ہاتھ ناف کے نیچے رکھتے ہیں۔ فتح القدیر ومرقاۃ میں ہے: واللفظ للـفـتـح (لقوله عليه الصلاة والسلام) لا يعرف مرفوعاً بل عن على من السنة في الصلاة وضع الاكف على الاكف تحت السرة رواه ابودود واحمد وهذا لفظه قال النووى اتفقوا على تضعيفه لان من رواية عبد الرحمن ابن اسحق الواسطى مجمع على ضعفه وفى وضع اليمني على اليسرى فقط احاديث فى الصحيحين وغيرهما واما قوله تعالى {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ} فمدلول اللفظ طـلـب الـنـحر نفسه فالمراد نحر الاضحية على ان وضع اليدين على الصدر ليسه الحقيقة وضعهما على النحر فصار الثابت وضع اليمني على اليسرى وكونه تحت السرة و الصدر كما قال الشافعي لم يثبت فيه حديث يوجب العمل فيحال على المعهود من وضعهما حال قصد التعظيم في القيام والمعهود في الشاهد منه تحت السرة - اھ۔ واللہ تعالیٰ اعلم آخر میں غیر مقلدوں سے اتنا کہئے کہ صاحبو! تم تو تقلید کو شرک ٹھہرا کے تمام مسلمانوں کو مشرک بنا چکے اور راہ مسلمانان سے دور جاچکے اب تمہیں کیا حق ہے کہ مسلمانوں کے فروعی مسائل میں ان کے منھ آؤ پھر جب تقلید شرک ٹھہری تو بچارے جاہل عوام کو بہکا کر اپنی تقلید پر کیوں مجبور کرتے ہو کہ ائمہ کرام کی تقلید شرک ہے اور آپ حضرات خدا سے سند لکھا لائے ہیں کہ آپ کی تقلید شرک نہیں جبھی ہر کس و ناکس کو اپنا ہمنوا بنانے کی ہوس ہے پھر جس امام الطائفہ پر سر منڈائے بیٹھے ہو وہ تو کسی کی سند پکڑنا شرک بتا چکا دیکھو ( تقویۃ الایمان )۔ اب اسی کے طور پر اپنے آپ کو اہلحدیث کہہ کر مشرک ہوئے کہ نہیں؟ ضرور ہوئ ۔ كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ۔ بس اسی تقویۃ الایمان کے آئینہ میں اپنی صورت دیکھتے رہئے اور ہم اہلسنت سے باز رہئے اللہ تعالیٰ ہمیں آپ سے باز رکھے۔ والله تعالى هو الهادى وهو تعالى وصلى الله تعالی علیه و آله و بارک ومجدد شرف و کرم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۴ /رجب المرجب ۱۳۹۶ھ فتح القدير ، ج 1 ، كتاب الصلوة ، باب صفة الصلوة، ص ۲۹۱ ، ۲۹۲ ، برکات رضا