قضائے عمری، تہجد، امامت اور داڑھی کے متعلق سوالات کے جوابات
(۴) بالفرض اگر نماز تہجد پڑھے تو کیا ثواب کا حق نہیں رکھتا؟ (۵) جن لوگوں پر قضائے عمری واجب ہو ، اگر وہ امامت کرے اور قضائے عمری ادا نہ کرے نہ اس کے قائل ہوں ، ان حضرات کے پیچھے نماز پڑھی جائے کہ نہیں؟ کیونکہ اس میں عام نمازی مبتلا ہیں ، ان سوالوں کا جواب مرحمت فرما یا جاوے تو بندہ نہ دل سے مشکور وممنون ہوگا۔ (1) جو نمازیں داڑھی نہ رکھنے کی حالت میں پڑھی گئی ہیں، اس کی نیت کیا ہوگی اور قضائے عمری کی طرح اس میں کچھ رعایت ہے؟ نیت میں واجب یا فرض کی نیت کرنی ہوگی؟ (۷) زید تو فوج میں تھا جو داڑھی رکھنے سے مجبور تھا، کیونکہ ایک مشت سے کم داڑھی رکھنے کے لئے حکم ہے، اللہ تعالیٰ نیت کو دیکھتا ہے اور یہ ارادہ کر لیا تھا پینشن ہوتے ہی داڑھی نہ بنوائے گا، وہی عمل کیا پھر ایسے آدمی پر شریعت کی طرف سے چھوٹ نہیں؟ المسطلانی: محمد یعقوب رضوی موضع و ڈاکخانہ صارم خورد یکسر ضلع بھوجپور ( آرہ)
الجواب بعون الملک الوہاب : (1) قضا نمازیں جلد ادا کرے، جب تک فرض ذمہ میں باقی ہے، نفل مقبول بارگاہ نہیں، بایں معنی کہ وہ معلق ہے تا وقتیکہ فرائض باقیہ کو ادا کر لے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے امید ثواب ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اعادہ کرے اور ان نمازوں میں واجب کی نیت کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) سب کو اعادہ کا حکم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جواب گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) جس شخص کے متعلق شرعا یہ مشہور اور ثابت ہو کہ اس کے ذمہ قضا نمازیں ہیں ، جن کو وہ ادا نہیں کر رہا ہے، اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ، کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ہے۔ غنیہ میں ہے: ”لوقدموا فاسقاياثمون) غنية المستملى شرح منية المصلى، ص ۵۱۳ ، فصل فی الامامة، مطبع سهیل اکیڈمی اور معاذ اللہ اگر وجوب قضا کا قائل نہیں تو کافر ہے، تو بہ وتجدید ایمان وتجدید نکاح کرے(اگر بیوی رکھتا ہو ) ۔ یہ اس صورت میں ہے کہ قضا نمازوں کو ادا کرنے کی فرضیت کا قائل نہ ہو اور اگر اس قضائے عمری کا منکر ہے جو عوام میں رائج ہے تو اس پر الزام نہیں۔ وہ مروجہ قضائے عمری یقینا واجب الانکار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) نیت پہلے گزری، رعایت یہاں بھی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) فوجی ملازمت ضرورت شرعی نہیں کہ چھوٹ ممکن ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الا جو بہ کلہا صحیحۃ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۷/ جمادی الآخر ه۱۳۹۶ھ