سجدہ سہو واجب ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنے کا حکم
سجدہ سہو واجب تھا، دونوں طرف سلام پھیر دیا، اب کیا کرے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان سوالات کے بارے میں کہ: امام صاحب نماز میں غلطی پر سجدہ سہو نہ کر کے دونوں سلام پھیر چکے بعد لقمہ سجدہ سہو کیا تو نماز ہوئی یا نہیں؟ اور اگر ایسی غلطی منفرد سے ہو گئی ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ ان چند سوالات کو دیکھ کر صحیح جواب سے بندہ کو نوازیں ، غلام کی ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں جو غلطی ہوئی ہو تو حضور نظر انداز کر کے معاف فرمائیں۔ المستفتی محمد جمال الدین اشرفی ، ڈوکرا انگلش پوسٹ ڈلی دیوان گنج کٹیہار
الجواب: فی الواقع اگر سجدہ سہو یاد نہ تھا اور بہ نیت قطع سلام پھیر دیا پھر یاد آنے پر کر لیا تو نماز ہوگئی اور اعادہ واجب نہیں منفرد کے لئے بھی یہی حکم ہے اور اگر یا د ہوتے ہوئے کہ سجدہ سہو ذمہ میں ہے، بہ نیت قطع سلام پھیر لے گا تو اعادہ لازم ہوگا۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۷ار محرم الحرام ۱۳۹۶ھ