نمازی کے سامنے سے گزرنا اور مسجد میں چندہ وصول کرنے کے آداب و ممانعت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: کچہری کی مسجد میں نماز جمعہ سے پیشتر ایک صاحب نمازیوں کے سامنے میں چندہ وصول کرتے ہیں جبکہ کافی نمازی سنتیں ادا کرتے ہوتے ہیں جبکہ سخت حکم ہے کہ نمازی کے سامنے سے مت گزرو۔ امام مسجد سے جب احقر نے کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ خرچ کہاں سے چلے؟ احقر نے خود دیکھا ہے کہ عیدین یا نماز جمعہ پر اگر کچھ ضرورت ہوتی ہے تو وہ صاحب کپڑا لے کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور دینے والے اس چادر میں ڈال دیتے ہیں، جیسا کہ ابھی مسجد نو محلہ شریف میں خود احقر نے دیکھا۔ اُن صاحب کے لئے جو نمازیوں کے سامنے سے بے دریغ چندہ وصول کرتے ہیں، از روئے شریعت کیا حکم ہے؟
نمازی کے سامنے سے گزرنا سخت ناجائز و ممنوع و گناہ ہے، جو لوگ اس کے مرتکب ہوتے ہیں، سخت گنہ گار ہوتے ہیں، انہیں لازم ہے کہ نمازیوں کے سامنے سے ہرگز نہ گزریں۔ مسجد میں آہستگی سے موافق شرع چندہ وصول کریں ، شور و غل اور گردنیں پھلانگنا اور ایذائے مسلم نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ محرم الحرام ۱۴۰۴ھ