دیوبندی کے تکبیر کہنے سے نماز ہو جائے گی مگر جو تکبیر دیو بندی کہے گا وہ نہ ہوگی ! تکبیر دوبارہ سنی صحیح العقیدہ سے کہلوانا بہتر ہے!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ: امام سنی اور تکبیر پڑھنے والا شخص دیوبندی ہے، کیا اس کی تکبیر کہنے سے نماز ہو جائے گی ؟ کیا اس سے تکبیر کہلوانا جائز ہے یا نہیں؟ المستفتی: خادم الفقراء، حافظ محمد عرفان صابری سکندر پور بھیسوال ، ڈاکخانہ خاص مضلع سہارنپور تحصیل روڑی (یوپی)
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: تکبیر نماز کا موقوف علیہ نہیں ہے، لہذا نماز ہو جائے گی مگر تکبیر جود یو بندی کہے گا وہ نہ ہوگی ، لہذا اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو تکبیر دوبارہ سنی صحیح العقیدہ سے کہلوائیں اور دیو بندی کو کہ مرتد ہے، تکبیر واذان سے موقوف رکھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ / رمضان المبارک ۱۴۰۷ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۲۴۱–۲۴۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
نمازی کے سامنے سے گزرنا اور مسجد میں چندہ وصول کرنے کے آداب و ممانعت
باب: کتاب الصلوٰۃ
سجدہ سہو واجب ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
عمامہ کے بیچ سے سر کا کچھ حصہ کھلا رہنے کی صورت میں نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
خلافِ ترتیب تلاوت، شرعی فیصلہ نہ ماننا، دشمنِ رسول کا قتل اور شہادتِ حسین سے متعلق جوابات
باب: کتاب الصلوٰۃ
عمامہ اس طرح باندھنا کہ درمیان کھلا رہے مکروہ تحریمی ہے
باب: کتاب الصلوٰۃ