عمامہ اس طرح باندھنا کہ درمیان کھلا رہے مکروہ تحریمی ہے
سوال
عمامہ اس طرح باندھنا کہ درمیان کھلا رہے مکروہ تحریمی ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے احناف مسئلہ مسئولہ کے متعلق کہ: زید یہاں کا معتبر عالم ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ عمامہ اس طرح باندھنا کہ سر کے بیچ کا حصہ کھلا
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: عمامہ اس طرح باندھنا کہ درمیان میں کھلا رہے، مکروہ تحریمی ہے اور ٹوپی کے بغیر عمامہ باندھے تو خلاف سنت ہے کہ بے ٹوپی کے عمامہ باندھنا خلاف سنت ہے۔ حدیث میں ہے: فرق ما بيننا وبين المشركين العمائم علی القلانس () اور زید کا قول درست نہیں ۔ جب عمامہ ٹوپی کے ساتھ باندھنے کا حکم ہے تو ترک وسطہ سے وسطہ راس مراد ہوگا ٹوپی کے ساتھ ہی مگر بعض عبارتوں کی تعبیریں خود مختلف ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۶ / جمادی الاخری ۱۳۹۸ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۲۳۸–۲۳۹
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور حضور مفتی اعظم ہند کے موقف سے متعلق سوال و جواب
باب: کتاب الصلوٰۃ
عمامہ کے بیچ سے سر کا کچھ حصہ کھلا رہنے کی صورت میں نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
مصلیٰ الٹا بچھا ہو تو نماز میں کوئی خلل نہ پڑے گا! ایسا مصلیٰ جس پر کعبہ مقدسہ یا مدینہ منورہ کا نقشہ بنا ہو، اُس کا استعمال سخت بے ادبی ہے!
باب: کتاب الصلوٰۃ
نمازی کے سامنے سے گزرنا اور مسجد میں چندہ وصول کرنے کے آداب و ممانعت
باب: کتاب الصلوٰۃ
اسٹیل کی چین دار گھڑی پہن کر نماز پڑھنے اور مسجد میں ایئر فریشنر کے استعمال کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ