مصلیٰ الٹا بچھا ہو تو نماز میں کوئی خلل نہ پڑے گا! ایسا مصلیٰ جس پر کعبہ مقدسہ یا مدینہ منورہ کا نقشہ بنا ہو، اُس کا استعمال سخت بے ادبی ہے!
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: جائے نماز اُلٹی بچھی ہو ، جیسے جائے نماز کو الٹا بچھا دیا ہو جلدی میں ، اس صورت مسئولہ میں نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ اور شرعاً کیا اس میں کوئی برائی ہے؟ احادیث کریم کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرما کر مشکور کریں۔ المستفتى: عبدالمجيد تکیه آدم شاہ گھاٹ گیٹ، جے پور
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: اس وجہ سے نماز میں کوئی خلل نہ پڑے گا نہ آدمی ملزم ہوگا اور اگر الٹے سے یہ مراد ہے کہ جانماز کا وہ حصہ جس پر سجدہ کرتے ہیں، وہ پیروں کے نیچے رکھا ہو تو یہ بہت مذموم ہے جبکہ دانستہ ہو، خصوصاً اس میں کعبہ معظمہ یا مدینہ منورہ کا نقشہ بنا ہو تو سخت بے ادبی ہے بلکہ ایسی جانمازوں کا استعمال مطلقا بے ادبی سے خالی نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۳ ؍رجب المرجب ۱۴۰۱ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۲۳۴
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
اسٹیل کی چین دار گھڑی پہن کر نماز پڑھنے اور مسجد میں ایئر فریشنر کے استعمال کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور حضور مفتی اعظم ہند کے موقف سے متعلق سوال و جواب
باب: کتاب الصلوٰۃ
صرف پاجامہ پہن کر نماز پڑھنے اور باریک کرتا پہننے کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
عمامہ اس طرح باندھنا کہ درمیان کھلا رہے مکروہ تحریمی ہے
باب: کتاب الصلوٰۃ
کتنے سال کا بچہ اذان واقامت کہہ سکتا ہے اور بالغ ہونے کی مدت کا بیان
باب: کتاب الصلوٰۃ