نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور حضور مفتی اعظم ہند کے موقف سے متعلق سوال و جواب
پھر بھی ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک آواز پہنچتے پہنچتے ایک طرف دوسرار کن شروع ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف کے مقتدی ابھی رکن اول میں ہی ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہزار احتیاط کے باوجود ہر سال جماعت میں انتشار و اختلاف ہوتا ہے۔ کبھی کبھی جھگڑے فساد کی نوبت آجاتی ہے اور عوامی مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ نماز میں لاؤڈ اسپیکر لگایا جائے، ہر مسجد میں نماز ہوتی ہے یہاں کیوں نہیں ہوتی ؟ غرض جتنے منہ اتنی باتیں ۔ لہذا ایسی صورت میں فتنہ و فساد سے بچنے اور اتنی بڑی جماعت کے ارکان صحیح ہونے کی غرض سے نیز دفع شر کی خاطر کیا شرعاً ایسی کوئی صورت جواز ہے کہ جماعت میں مکبرین کا بھی نظم رہے اور لاؤڈ اسپیکر بھی استعمال ہو جائے؟ یا ایسی ہی اور کوئی صورت جواز ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے ساتھ نماز صحیح ہو جائے؟ امید کہ اس شرعی اہم مسئلہ میں قوم کی صحیح رہبری و رہنمائی فرمائیں گے اور کوئی نہ کوئی مناسب صورت بیان فرما کر ہر وقت ہر سال کے اس انتشار و اختلاف کو دور فرما کر نوازش فرمائیں گے۔ (۲) یہاں شہر کی ایک مسجد میں حالیہ چند ماہ سے ایک سنی عالم دین امامت کے لئے تشریف لائے ہیں اور موصوف لاؤڈ اسپیکر پر نماز باجماعت کی امامت فرماتے ہیں۔ موصوف سے جب اس سلسلے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ خود حضور مفتی اعظم ہند صاحب قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ ابتدا میں آٹھ سال تک لاؤڈ اسپیکر پر نماز کے جواز کے قائل تھے۔ بعد میں حضور نے اپنا فتویٰ بدل دیا اور نماز نہ ہونے کا فتویٰ دیا، اس بات سے عوام میں مزید انتشار و اختلاف پھیلا ہوا ہے اور وہ چند مساجد جہاں لاؤڈ اسپیکر نہیں ہے وہاں کے ائمہ و مصلیان سخت پریشان ہیں ۔ کیا حضور مفتی اعظم صاحب کا کوئی ایسا فتویٰ ہے؟ اور کیا اسی فتوی میں کوئی صورت جواز ہے؟ (نوٹ) چونکہ ماہ رمضان قریب ہے۔ لہذا عرض ہے کہ اولین فرصت میں جواب ارسال فرما ئیں تا کہ وقت سے پہلے صحیح طور پر عوام و مطمئن کیا جاسکے اور یہ اختلاف وانتشار دور ہوجائے۔ بینواتوجروا المستفتی : صوفی شار احمد رضوی ،محمد حنیف سیٹھ ، حاجی اصغر سیٹھ رضوی و دیگر مصلیان ، سنی بڑی مسجد ، ۱۶۶، ایم آزاد روڈ، بمبئی۔ ۸ (مہاراشٹرا)
الجواب: (1) لاؤڈ اسپیکر سے جو آواز نکلتی ہے، وہ صدا ہے اور صدا کاحکم شرع فی الجملہ وہ نہیں جو اس آواز متکلم کا ہے جو بغیر کسی چیز سے ٹکرائے محض ہوا کے تموج سے گوش سامع تک پہنچتی ہے۔ لہذا آیت سجدہ اگر اس آواز متکلم سے سنے تو سجدہ تلاوت واجب اور اگر صدا سے سنے تو سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا۔ غنیہ میں ہے: لو سمعها من الطائر او الصدى لا تجب لأنه محاكاة وليست بقراءة )) مراقی الفلاح میں ہے: ولا تـجـب بسماعها من الصدى وهو ما یـجـیـبـک مثل صوتک فی الجبال والصحارى ونحوها (٢) طحطاوی میں ہے: فانه لا اجابة في الصدى وانما هو محاكاة (۳) فتح القدیر میں ہے: في الخلاصة اذا سمعها من طير لا تجب هو المختاروان سمعها من الصدى لا تجب ( ) تنویر و در مختار میں ہے: ،، لا تجب بسماعه من الصدى والطير (ه) اس تغایر حکم اور فقہاء کی تعلیل (لانها محاكاة) سے صاف ظاہر کہ صدا شرعا فی الجملہ اپنا حکم جدا گانہ رکھتی ہے اور سجدہ تلاوت کے وجوب میں صدا کا اعتبار نہیں تو حکما صد انفس آواز متکلم سے خارج و بے علاقہ ہے گونفس الامر میں بعینہ آواز متکلم ہو اور جب صدا اس جگہ نفس آواز متکلم سے جدا ٹھہری تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ سجدہ صلاحیہ میں صدا کو شرعاً بعینہ آواز متکلم مان لیا جائے حالانکہ سجدہ تلاوت وسجدہ صلاتیہ ایک ہی جنس سے ہیں اس لئے کہ فی الجملہ شروط میں متحد ہیں پھر نماز زیادہ احتیاط کامل لہذا اگر سجدہ تلاوت میں (۲) غنية المستملى شرح منیۃ المصلی ، ص ۵۰۰ ، سهیل اکیڈمی لاهور باکستان مراقی الفلاح، كتاب الصلوة باب سجود التلاوة ، ص ۱۸۵ ، المكتبة الاسعدی حاشیة الطحطاوي على مراقی الفلاح كتاب الصلوۃ، باب سجود التلاوة، ص ۴۸۶ ، دار الكتب العلمية بيروت (۴) فتح القدير، ج ۲، ص ۱۶ ، كتاب الصلوۃ، باب سجود التلاوة، مرکز اهل سنت برکات رضا الدر المختار، ج ۲، ص ۵۸۳ کتاب الصلوة ، باب سجود التلاوة، دار اكتب الكتب العلمية بيروت (۵) صدا نفس آواز مشکلم سے جدا و خارج تو بدرجہ اولی یہاں خارج قرار پائے گی اور جب خارج قرار پائی تو خارج سے تلقین مفسد نماز اور یہ آفت لاؤڈ اسپیکر میں موجود لہذا ہمارے مقتدا تا جدار اہل سنت سیدی الکریم حضور مفتی اعظم ہند دام ظلہ اور اکابر اہل سنت کا فتویٰ مبارکہ یہی ہے کہ جو لوگ محض لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر اعتمادکر کے انتقالات کرلیں گے ان کی نماز نہ ہوگی پھر یہ حکم اس آلہ کا ہے جو خود آواز اخذ کر سکے اور جس میں آواز به تکلف عمل کثیر ڈالنا پڑے وہ امام کی نماز بھی فاسد کرے گا تو لاؤڈ اسپیکر سخت مظنہ فسادنماز ہے۔اس سے ارکان کی صحت کی امید رکھنا غلط اور مکبرین کی سنت قدیمہ کو اُٹھانا بہت مذموم اور یہ عذر کہ ایک طرف دوسرا رکن شروع ہوتا ہے۔ الخ نہ کارگر لاؤڈ اسپیکر رفع اشتباہ کا ضامن پھر بہار شریعت میں لاحق وغیرہ کے احکام مفصل مذکور تو نہ جاننا اپنا قصور ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ فتوی ہم نیاز مندان حضور مفتی اعظم ہند قبلہ مدظلہ نے نہ دیکھا نہ آج تک ان ممدوح مذکور نے نہ اور کسی نے دکھایا۔ پھر اگر حضور مفتی اعظم ہند نے جواز کا فتویٰ کبھی دیا بھی ہو تو اسے سند بنانا کیا کارگر کہ وہ قول مرجوع عنہ ہے اور حضور مفتی اعظم ہند قبلہ کے دوسرے فتویٰ سے صرف نظر کون سی دلیل قومی سالم عن المعارض سے کیا گیا اور العمل بما علیہ الاکثر کو کیوں نظر انداز فرمایا گیا۔ ہر عوام میں یہ قول مرجوع عنہ اور تبدیل فتویٰ کی بات کب مناسب ہے کہ وہ کچھ کا کچھ سمجھیں گے اور اختلاف میں پڑیں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۵ جمادی الاخری ۱۴۰۰ھ دارالافتاء منظر اسلام،محلہ سوداگران، بریلی شریف