عمامہ کے بیچ سے سر کا کچھ حصہ کھلا رہنے کی صورت میں نماز کا حکم
رہے مگر نیچے یعنی سر پر ٹوپی موجود ہے تو نماز مکروہ نہیں ہوئی۔ دلیل یہ دیتے ہیں کہ جہاں بھی اس مسئلہ کا ذکر آیا ہے وہاں لفظ راس استعمال کیا ہے اور عمر کا قول ہے کہ ٹوپی ہو یا نہ ہوسر کھلا ہے تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی اور بلائو پی تو عمامہ باندھنا ہی مکروہ۔ زید وعمرو میں سے جس کا قول صحیح ہے، مع دلیل وضاحت فرمایا جائے ۔ عین کرم ہو گا !
الجواب: عمامہ اس طرح باندھنا کہ درمیان میں کھلا رہے، مکروہ تحریمی ہے اور ٹوپی کے بغیر عمامہ باندھے تو خلاف سنت ہے کہ بے ٹوپی کے عمامہ باندھنا خلاف سنت ہے۔ حدیث میں ہے: فرق ما بيننا وبين المشركين العمائم علی القلانس (1) اور زید کا قول درست نہیں ۔ جب عمامہ ٹوپی کے ساتھ باندھنے کا حکم ہے تو ترک وسطہ سے وسطہ راس مراد ہوگا ٹوپی کے ساتھ ہی مگر بعض عبارتوں کی تعبیریں خود مختلف ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) فيض القدير شرح الجامع الصغير من احاديث البشير النذیر، ج ۴، ص ۵۶۴ ، دار الكتب العلمية، بيروت