صرف پاجامہ پہن کر نماز پڑھنے اور باریک کرتا پہننے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین حسب ذیل مسائل میں کہ: ،، فتاویٰ رضویہ شریف جلد سوم میں ہے: ”صرف پاجامہ پہنے بالائی حصہ بدن کا ننگا رکھ کر نماز بایں معنی تو ہو جاتی ہے کہ فرض ساقط ہو گیا مگر مکروہ تحریمی ہوتی ہے، واجب ترک ہوتا ہے، عامل گنہ گار ہوتا ہے، اس کا پھیر نا گردن پر واجب رہتا ہے، نہ پھیرے تو دوسرا گناہ سر پر آتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ یہ وجوب صرف نماز کے لئے ہے یعنی بالائی حصہ جسم کا ڈھکنا یا نماز کے علاوہ بھی کرتا وغیرہ پہنا واجب ہے نیز فتاویٰ رضویہ شریف جلد اول میں ہے : ”یوں ہی تنہا پاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والا ساقط العدالت مردود الشہادة خفيف الحرکات ہے“۔ تو یہاں کرتا وغیرہ پہنا واجب ہے یا مستحب؟ (ب) کرتا تو پہنے ہے مگر اتنا باریک ہے کہ جسم کا بالائی حصہ بالکل صاف نظر آرہا ہے تو ایسا کرتا پہن کر نماز پڑھانا یا نماز پڑھنا کیسا ہے؟ نیز نماز کے علاوہ پہن کر بازاروں میں اور سڑکوں پر چلنا کیسا ہے؟ ( ج ) فتاوی رضویہ شریف میں جو ساقط العدالة مردود الشہادۃ فرمایا ہے، وہ ترک واجب کی بنا پر یا ترک استحباب پر یا ایسے لوگوں کو فاسق یا کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب بعون الملک الوہاب : نماز سے باہر وجوب نظر سے نہ گزرا اور ہے بھی یہی کہ امر حدیث نے نماز میں منع فرمایا : لا يصلين احدكم في الثوب الواحد ليس على عاتقه منه شي (1) ہر گز تم میں کوئی ایک کپڑا پہن کر نماز نہ پڑھے کہ کندھے پر اس کا کوئی حصہ نہ ہو، ہاں مستحب ہے اور مواقع تہمت وخطا در میں صورت مستبعد نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۳ رشوال المکرم ۱۳۹۸ھ