مقرر کے لیے سفر خرچ کی واپسی کا شرعی حکم
حسب ضرورت بھیج دیا گیا، پھر تاریخ مقررہ پر مقر ر صاحب اگر کسی عذر معقول یا نا معقول کی بنا پر شریک اجلاس نہ ہو سکے تو کیا کرا یہ سفر خرچ کا واپس کرنا ضروری ہے؟ یا اس کو نذرانے میں شمار کر لیا جائے گا؟ اگر واپس کرنا واجب ہے تو جو مقرر واپس نہ کرے اس پر کیا حکم شرعی عائد ہوتا ہے؟ کیا انگنت بار ایسا کرنے والا مقرر بھی اس لائق ہے کہ اس کو منبر رسول پر بٹھا کر دینی جلسہ میں تقریر کا موقع دیا جائے؟ یہ چند بہت ہی اہم اور متداول سوالات ہیں، امید کہ اعلاء کلمۃ الحق اور اعلان حق کے طور پر ضرور بالضرور اور جلد دینی شرعی مدل مکمل جوابات سے نوازیں گے۔ والسلام المستفتی : نا چیزی شمس الدین قادری رضوی توابع رو ، وارانسی ۱۵ جمادی الاخرمی ۱۳۹۷ھ
الجواب: (1) سائل نے جس فتاویٰ رضویہ سے وہ حدیث نقل کی اسی فتویٰ میں حلیہ سے یہ عبارت نقل فرمائی: ينبغى أن يكره تشميرهما الى ما فوق نصف الساعد لصدق كف الثوب على هذا (1) یہی عبارت بہار شریعت کا ماخذ ہونا چاہئے ، اگر چہ بہار شریعت میں درمختار کا حوالہ ہے، غالباً یہ سہو کا تب ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ عبارت مثل عبارت غنیہ کے ہے جو انشاء اللہ ذکر ہوگی ، صاحب حلیہ نے یہ بتانے کے لئے تحریر فرمائی کہ منیہ میں مرفقین ( کہنیوں) کی قید اتفاقی ہے اور کہنیوں سے نیچے کا بھی وہی حکم ہے جو کہنیوں تک سمیٹنے کا ہے۔ چنانچہ غنیتہ میں تو صاف فرمایا: يكره ايضاً ان يرفع كمه أى يشمره الى المرفقين وهذا قيد اتفاقي فانه لو شمر الى ما دون المرفق يكره ايضاً لانه كف للثوب وهو منهى عنه في الصلاة لما مر وهذا اذا شمره خارج الصلاة وشرع في الصلاة وهو كذلك اما لو شمره في الصلاة تفسد لانه عمل كثير (۲) تو یہ دونوں عبارتیں حدیث شریف کے اطلاق کی مؤید ہیں بلکہ عبارت غنیتہ افادہ اطلاق میں حلیہ (۱) حلية المحلى شرح منية المصلى (۲) غنية المستملی شرح منية المصلى ، فصل في كراهية الصلوة ، ص۳۵۷، سهیل اکیڈمی لاهور سے صریح تر ہے کہ اس میں مادون المرفقین مطلق فرمایا جو کلائی سے او پر اور کلائی کے نیچے پہونچے سے اوپر ہے صورت کف پر صادق ہے۔ برخلاف حلیہ کہ اس میں منیہ کی طرح مافوق نصف الساعد کی قید اسکے ماسوا سے نفی کراہت کی موہم ہے حالانکہ حکم مطلق ہے، اس لئے جملہ متون میں فرمایا: ”کره کف ثوبه “ فتح القدير وبحر الرائق میں بھی ہے: ”يدخل ايضا في كف الثوب تشمير كميه - اه“ در مختار میں ہے: ”کره کفه ای رفعه ولولتراب کمشمر کم او ذيل“ غنیہ میں ہے: ”ویکره ایضاً ان يكف ثوبه وهو في الصلاة بعمل قليل بأن يرفعه من بين يديه او من خلفه عند السجوداويدخل فيها وهو مكفوف كما اذادخل وهو مشمر الكم او الذيل“ مراقی الفلاح میں ہے: ”وتشمير كميه عنهما للنهى عنه“ فتح القدیر کے الفاظ یہ ہیں: ”ويتضمن كراهة كون المصلی مشمراً کمیه - اه ملتقطا للنهى عنه لما فيه من الخفاء المنافي الخشوع“ طحطاوی علی المراقی میں ہے: قوله (تشمیر کمیه عنها ) أى عن ذراعيه سواء كان الى المرفقين أو لا على الظاهر کمافی البحر لصدق كف الثوب على الكل - اه بقدر الحاجة ان تمام عبارات سے ظاہر کہ متون و شروح ، سب مطلق حکم فرمارہے ہیں کہ کف مطلق مکروہ ہے، خواہ کہنیوں تک ہو خواہ کہنیوں سے نیچے، تو یہ امر متعین کہ عبارت حلیہ کا مفہوم مخالف جو متون و شروح کے اطلاق صریح کا معارض نہیں ہوسکتا ، جنس طرح کہ عبارت منیہ میں الی المرفقین کی قید اتفاقی ہے۔ ضروری ہے کہ یہاں بھی یہ قید اتفاقی ہو اور اب یہ عبارت دوسری عبارتوں سے مطابق ہو جائے گی ، ورنہ ان عبارات کثیرہ کے آگے مضمحل ٹھہرے گی اور جب حلیہ کہ بہار شریعت کا ماخذ ہے، اس میں یہ حمل متعین نہ ہوا تو بدرجہ اولیٰ یہاں بھی یہی معمل متعین ٹھہرا کہ نصف کلائی کی قید اتفاقی ہے۔ اسی لئے سیدنا اعلیٰ حضرت عظیم البرکت فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز نے فتاوی رضویہ میں باوجود عبارت حلبیہ مذکورہ آخر میں مطلقا آستین اتار کر نماز پڑھنے کا حکم فرمایا یہ نہ فرمایا کہ نصف کلائی تک اتارے بالجملہ حکم مطلق ہے اور زید خاطی ہے، سمیٹنا اور سکوڑ نا اور اٹھا کر الٹ لینا بھی کف ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) کسی بزرگ کا قول ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) دور ہی سے فاتحہ پڑھیں۔ اختلاط سے احتراز لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) بزرگوں کے اعراس میں شرکت جائز ہے، منکرات سے دور ر ہیں اور حسب قدرت ازالہ منکرات کا کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) کرایہ واپس کرنا لازم ہے اور اسے بے اجازت صحیحہ شرعیہ روک لینا خیانت و گناہ ہے اور جو اس امر میں مشہور ہے، فاسق معلن ہے، اسے منبر پر بیٹھنا منع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم ۲۳ / جمادی الاخری ۱۳۹۷ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی