عمامہ اس طرح باندھنا کہ سر کا درمیانی حصہ کھلا رہے (اعتجار) کا حکم
عمامہ باندھے میں بیچ کھلا ہو تو اعتبار ہے! پٹھانی کلاہ پر صافہ باندھ کر نماز پڑھنا کیسا؟ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله اگر ذرا بھر بھی کلاہ صافہ سے کھلی رہ جائے تو کیا نماز نہ ہوگی؟
الجواب: کلاہ پر اس طرح عمامہ باندھنا کہ پیچ میں کھلا ہو یہ اعتبار کی شکل ہے اور اعتبار مکروہ ہے جس سے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی۔ در مختار، مراقی الفلاح اور نور الایضاح میں ہے: وو واللفظ للاخيرين (و) يكره الاعتجار وهو شد الرأس بالمنديل او تكوير عمامته على رأسه و ترک وسطها مکشوفا وقيل ان ينتقب بعمامته فيغطى انفه لنهي النبی صلی الله عليه وسلم عن الاعتجار في الصلاة (۲) (۱) صحیح البخاری، ج ۱، ص ۱۱۲ ، كتاب الاذان، باب السجود على سبعة اعظم مجلس بركات (۲) نور الايضاح و مراقی الفلاح، کتاب الصلوة، فصل فیما یکرہ المصلی، ص ۱۲۶ ۱۲۷، المكتبة الاسعدى طحطاوی میں ہے: (قوله لنهى النبي - الخ) هذا يفيد كراهة التحريم ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ