کف ثوب (کپڑا موڑنا) مکروہ تحریمی ہے اور نماز میں پائجامہ موڑنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : ہمارے پاکستان میں آج کل جو پائجامے یا پینٹ استعمال کئے جاتے ہیں وہ اتنے دراز ہوتے ہیں کہ ایڑیوں کے برابر یا اس سے زائد ہوتے ہیں اور نماز کی حالت میں لوگ اسے کھوس لیتے ہیں یا موڑ لیتے ہیں تو اس حالت میں نماز مکروہ ہوگی یا نہیں؟ اور اسے چھوڑ دیا جائے تو نماز میں کراہت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: کپڑا گھرس لینا کف ہے اور کف ثوب مکروہ تحریمی ہے۔ حدیث میں ہے: عن ابن عباس قال امر النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان يسجد على سبعة اعضاء ولا يكف شعر اولا ثوبا (1) مجھے حکم ہے کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں اور بال اور کپڑے کو نہ روکوں۔ لہذا تمام فقہاء نے تصریح فرمائی کہ کف مطلقاً خواہ کپڑے میں ہو یا بال میں مکروہ تحریمی ہے۔ در مختار میں ہے: دو وکره کفه ای رفعه ولولتراب کمشمر کم او ذيل (۱) ہندیہ میں معراج الدرایہ سے ہے: يكره للمصلى ان يعبث بثوبه او لحيته او جسده وان يكف ثوبه بان يرفع ثوبه من بین یدیه او من خلفه اذا اراد السجود کذا فی معراج البداية “(۲) خانیہ میں ہے: يكره أن يكف ثوبه - ملتقطا (۳) کنز الدقائق میں ہے: وو وكف ثوبه - الخ“ (٢) بحر الرائق میں اس کے تحت ہے: للحديث السابق سواء كان من بين يديه او من خلفه عند الانحطاط للسجود والكف هو الضم والجمع ولان فيه ترک سنة اليد (۵) نیز اسی میں ہے: و ذكر في المغرب عن بعضهم أن الائتزار فوق القمیص من الکف - اه، فعلی هذا یکره أن یصلی مشدود الوسط فوق القميص )) خلاصہ اس عبارت کا یہ ہے کہ کرتا یا قمیص کے او پر تہبند کو لپیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ قمیص پر تہبند کو باندھنا خلاف معتاد ہے۔ تو یہاں کف ثوب خلاف معتاد ہو کر کف ممنوع کے تحت واقع ہوا اور ضرور ہوا کہ مکروہ تحریمی ٹھہرے اس پر پائجامہ گھر سنے کو قیاس کر لیجئے ۔ بحمدہ تعالیٰ یہ جزئیہ صورت مسئولہ میں خوب منطبق ہے ۔ واللہ الحمد منیہ وغنیتہ میں ہے: (و) يكره ايضا أن يكف ثوبه وهو في الصلاة بعمل قليل بأن يرفعه من بين يديه او من خلفه عند السجوداويدخل فيها وهو مكفوف كما اذاخل وهو مشمر الكم او الذيل (٢) اور جوہرہ میں ہے: ولا يكف ثوبه وهو أن يرفعه من بين يديه او من خلفه- الخ (۳) رسائل الارکان علامہ عبد العلی بحر العلوم میں ہے: وو ومنها كف الثوب لأن فيه تحيراً - الخ (۲) نور الایضاح میں ہے: وو وكف ثوبه - الخ“ (ه) اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے: أى رفعه بين يديه او من خلفه اذا اراد السجود وقيل أن يجمع ثوبه ويشده في اور اس طرح نماز پڑھنے سے اعادہ واجب ہوگا۔ در مختار میں ہے: کل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۲) اور اس کا چھوڑ دینا اگر بوجہ تکبر ہے تو مکروہ تحریمی دور نہ تنزیہی۔ ہندیہ میں ہے: اسبال الرجل ازاره اسفل من الکعبین ان لم يكن للخيلاء ففيه كراهة تنزيه کذافی الغرائب (۳) نیز اسی میں ہے: يكره للرجل لبس السراويل المخرفجة وهي التي تقع على ظهر القدمين كذافی الفتاوى العتابية (٢) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ ؍ رجب المرجب ۱۳۹۹ھ الجواب صحیح والحجیب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محمله سوداگران، بریلی شریف