چادر یا کمبل کاندھے سے اوڑھ کر نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : نماز پڑھنے کے وقت چادر یا کمیل کا ندھے سے اوڑھ کر لوگ نماز پڑھتے ہیں، کیا یہ مکروہ ہے؟ کون سی کراہت ہے؟ المستفتی بمحمد شمس الحق ، خادم مدرسه رضویه شمس العلوم محلہ باڑا، پوسٹ موہر یا ضلع سیتا مڑھی (صوبہ بہار )
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: سر سے اوڑھ کر نماز پڑھنا چاہیے، کاندھے سے اوڑھنا مکروہ وممنوع ہے، اور اس میں وعید بھی آئی ہے۔ دیکھو فتاوی رضویہ، جلد سوئم۔ اور وعید کا مقتضی یہ ہے کہ کراہت تحریمی ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵/ ذوالحجہ ۴۱۰۲ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۲۱۴
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
پائجامہ موڑنے، سنت فجر، بغیر میانی کے لباس اور جیب میں تصویر والے سکوں کے متعلق سوالات
باب: کتاب الصلوٰۃ
نسبندی کرانے والے شخص کے بارے میں حکم شرع کیا ہے؟!
باب: کتاب الصلوٰۃ
کہنیوں تک آستین چڑھا کر نماز پڑھنے اور گلے کا بٹن کھلا رکھنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
کف ثوب (کپڑا موڑنا) مکروہ تحریمی ہے اور نماز میں پائجامہ موڑنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
سنتوں کی نیت کا طریقہ، لقمہ، غیر مسلم کو سلام اور عیدین کی نماز کا اعادہ
باب: کتاب الصلوٰۃ