کہنیوں تک آستین چڑھا کر نماز پڑھنے اور گلے کا بٹن کھلا رکھنے کا حکم
سوال
کہنیوں تک آستین چڑھانے سے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: آستین اگر کہنیوں تک چڑھی ہوئی ہو تو کیا اس صورت میں نماز ہو جائے گی ؟ اور گلے کا بٹن کھلا ہوا ہو اور سینے کی ہڈی چمکتی ہو تو کیا اس حالت میں نماز ہو جائے گی ؟ زید کہتا ہے کہ نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے، بکر کہتا ہے کہ کیا حدیث میں ہے کہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ المستني: محمد زاہد الرحمن محلہ پھوٹا دروازہ ، بریلی شریف (یوپی)
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: صورت مسئولہ میں جبکہ آستین کہنیوں تک چڑھی ہوئی ہوتو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی، یہی حکم اس وقت ہے جبکہ سینہ چمکتا ہو اور بٹن کے کھلنے سے کراہت تنزیہی کا حکم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۲۱۲–۲۱۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
سنتوں کی نیت کا طریقہ، لقمہ، غیر مسلم کو سلام اور عیدین کی نماز کا اعادہ
باب: کتاب الصلوٰۃ
پائجامہ موڑنے، سنت فجر، بغیر میانی کے لباس اور جیب میں تصویر والے سکوں کے متعلق سوالات
باب: کتاب الصلوٰۃ
قضا نماز کی نیت کا طریقہ اور سورت سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
چادر یا کمبل کاندھے سے اوڑھ کر نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
باب: کتاب الصلوٰۃ
چین کی گھڑی پہن کر نماز پڑھنے اور التحیات یا فاتحہ کے حروف رہ جانے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ