قضا نماز کی نیت کا طریقہ اور سورت سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) نماز فجر میں سو گیا، سورج نکلنے پر پڑھنا چاہا تو نیت قضا کی کرے یا ادا کی؟ اور کتنی رکعت ادا کریگا؟ (۲) قضا نماز کی نیت کس طرح کرے گا، تمام نیت عربی میں درج کر دیں۔ (۳) نماز پڑھنے میں ثناء پڑھنے کے بعد اعوذ باللہ ، بسم اللہ پڑھا بعد سورہ فاتحہ کے آمین کہا۔ اب دوسری صورت بغیر بسم اللہ کے پڑھے یا بسم اللہ پڑھ کے پڑھے؟ پھر ایک رکعت کے بعد سجدے سے کھڑا ہو کر بسم اللہ پڑھ کر سورہ فاتحہ پڑھے یا یونہی سورہ فاتحہ پڑھنے لگے؟
الجواب: (۱) تفصیل سے سوال کیا جائے ، کس رکعت پر سویا ؟ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نَوَيْتُ أَنْ أَصَلَّى فَائتة ( یہاں نماز کا نام لے اللہ تعالى متوجها الى الكعبة الشريفة. واللہ تعالیٰ اعلم (۳) قسم سورت میں بسم اللہ پڑھنا حضرت امام اعظم وابو یوسف کے نزدیک مسنون نہیں ہے۔ ہاں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھے گا۔ (1) در مختار میں ہے: لاتسن بين الفاتحة والسورة مطلقا ولو سرية، ولا تكره اتفاقا )) رد المحتار میں ہے: هذا قولهما وصححه في البدائع و ذكر في المصفى أن الفتوى على قول ابى يوسف أنه يسمى في أول ركعة ويخفيها، ملخصاً ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ (1) رد المحتار، ج ۲، ص ۱۹۲، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، مطلب في بيان المواشر بالشاذ، دار الكتب العلمية، بيروت