بعد نماز فجر و جمعہ صلوۃ وسلام پڑھنا، عمامہ کی خاص ہیئت اور اسٹیل بٹن کا حکم
بعد نماز فجر و جمعہ صلوۃ وسلام پڑھنا جائز ہے! عمامہ باندھنے میں درمیان سر پیچ کا نہ ہونا یہ شکل اعتبار کی ہے! اسٹیل بٹن کا حکم بگرامی خدمت حضرت مولانا قاضی عبدالرحیم صاحب مفتی دار العلوم منظر اسلام، بریلی شریف! ہدیہ سلام و رحمت ۔ مندرجہ ذیل سوالات حاضر ہیں۔ جوابات مدلل بحوالہ کتاب و بقیه صفحات تحریر فرما کر مشکور فرمائیں۔ (1) جماعت فجر و جمعہ کے بعد مسجد کے اندر بآواز بلند صلوۃ وسلام پڑھنا کیسا ہے؟ (۲) وہ کلاہ جو بیچ میں اٹھی ہوتی ہے اور جس پر عمامہ باندھنے کی صورت میں درمیان سر میں بیچ نہیں ہوتا اس کا کیا حکم ہے؟ اس پر نماز درست ہے یا نا درست ہے؟ (۳) پاجامہ یا تہبند کے نیچے چڑی پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (۴) اسٹیل بٹن کا کیا حکم ہے؟ اس میں نماز درست ہے یا نا درست؟ المستفتی: مبین الہدیٰ نورانی ، خطیب باری مسجد ، آزادنگر ، جمشید پور (بہار)
الجواب: (1) جائز ہے مگر اتنی آواز سے پڑھیں کہ نمازیوں کو تشویش نہ ہو۔ ردالمحتار میں ہے: اجمع العلما سلفا و خلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها الا ان يشوش جهرهم على نائم او مصل او قارئ - الخ ) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ شکل اعتبار کی ہے اور اس کا حکم وہی ہے جو دیگر صور اعتبار کا ہے یعنی کراہت تحریم اگر چہ نماز ہو جائے گی۔ مگر واجب الاعادہ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جائز ہے جبکہ بے زنجیر لگائیں اور نماز میں کراہت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم مسئلہ - ۱۵۸ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الا جو بہ کلہا صحیحۃ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۴ / جمادی الاخری ۱۴۰۰ھ