نماز پنجوقتہ اور جمعہ کے بعد مصافحہ کرنے کا حکم اور وہابیہ کے اعتراض کا جواب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: کیا بعد نماز جمعہ دعا کرنا اور باہم ملاقات کر کے مصافحہ کرنا غیر مسنون ہے یہاں کے مقامی متولی صاحب کے کہنے پر امام مسجد نے اعلان کیا کہ ایسا کرنا بدعت ہے۔ اس اعلان سے اہل سنت و جماعت کے لوگوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی حالانکہ ایک عرصہ سے امام خود بعد نماز جمعہ دعا بھی کرتے رہے اور مسلمانوں سے مصافحہ بھی کرتے رہے لیکن اب ایسا کرنا ان کے نزدیک بدعت ہو گیا ہے کیونکہ وہابیوں کی ایک کتاب میں ان کو یہ بیان مل گیا ہے۔ لہذا از راہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب سے سرفراز فرمائیں تا کہ یہاں کے مسلمانوں کا قدیم اتحاد و اعتقاد پامال ہونے سے بچ جائے۔ بینوا توجروا۔ فقط ! سائل: پیرزادہ نعیم قادری عفی عنہ، کوئمبتور تملناڈو
الجواب: نماز جمعہ اور پنجوقتہ نمازوں کے بعد مصافحہ جائز ومباح ہے اور نیت محمود سے ہو تو محمود ومستحسن ہے، ہرگز منع نہیں ۔ اسے بدعت سیئہ بتانا وہابیہ کا افترا ہے اور علماء اجلہ اسلام کی مخالفت ہے۔ تنویر الابصار ودر مختار میں ہے: كتا الصلوة / باب صفة الصلوة كالمصافحة اى كما تجوز المصافحة لانها سنة قديمة متواترة لقوله عليه الصلوة و السلام من صافح اخاه المسلم و حرک یده تناثرت ذنوبه واطلاق المصنف تبعاللدرر والكنز والوقايةوالنقاية والمجمع والملتقى وغيرها يفيدجوازهامطلقاًولوبعد العصر، وقولهم انه بدعة أى مباحة حسنة كما افاده النووى فى اذکاره (1) بلکہ ان کی یہ بکواس خود ان کے امام الطائفہ میاں اسماعیل دہلوی کے خلاف ہے وہ زبدۃ النصائح کی تقریر میں یوں رقم طراز ہیں: ہمہ اوضاع از قرآن خوانی و فاتحه خوانی و طعام خورانیدن سوائے کندل چاہ و امثاله و دعا واستغفار واضحیه بدعت است گو بدعت حسنه بالخصوص است مثل معانقه روز عید و مصافحه بعد نماز صبح یا عصر - اھ (۲) لیجئے امام الطائفہ نے فیصلہ کر دیا کہ ہر بدعت سیئہ نہیں ہوتی بلکہ بدعت حسنہ بھی ہوتی ہے اور معانقہ عید کے دن اور مصافحہ صبح و عصر کی نمازوں کے بعد بدعت حسنہ ہے۔ مگر وہابیہ کو شرم نہیں آتی کہ بزور زبان جس چیز کو چاہتے ہیں حرام و ناجائز و بدعت سیئہ بتا کر منع کرتے ہیں، ان احمقوں سے کہا جائے کہ مسلمانوں کے منہ نہ آؤ، انہیں بدعتی نہ بناؤ، اپنے امام کے لکھے کا ردکرو، اپنی اور اپنے امام کی خیر مناؤ اور خود کو بدعتی اور مقتدی بدعتی ہونے سے بچاؤ۔ { كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ} (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰/ جمادی الاخرمی ۱۳۹۷ھ صح الجواب ۔ اس مسئلہ کی تفصیل اور دلائل کیلئے حضور اعلیحضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کا رساله الدر المختار، ج ۹، ص ۵۴۷، کتاب الحظر والاباحة باب الاستبراء وغيره، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) زبدة النصائح (۳) سورة القلم : ٣٣ مبارکہ صفائح المحبين في كون اتصافح بلکلی الیدین منگوا کر دیکھیں۔ والمولی تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف