مرد کے لیے چین والی گھڑی پہننے اور اس میں نماز پڑھنے کا شرعی حکم
والی گھڑی پہن کر نماز پڑھتا ہے اور علاوہ نماز کے بھی پہنتا ہے زید سے دو چار باتیں بھی ہوگئیں اور وہ کہتا ہے کہ مفتی اعظم ہند نے فرمایا ہے کہ چین والی گھڑی پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ لہذا دریافت طلب بات یہ ہے کہ زید کے بارے میں از روئے شرع کیا حکم ہے؟ جواب سے نواز میں، معین کرم ہو گا۔ فقط لمستلتی: محمد طیب، بہاری پور، بریلی
الجواب: مرد کو چین خواہ سونے چاندی کی ہو خواہ پیتل وغیرہ کی دھات کی ہو، مطلقاً حرام ہے کہ اس میں تشبه به زنان ہے اور مرد کو عورت سے اور عورت کو مرد سے تشبیہ حرام و موجب لعنت ہے ۔ حدیث میں ہے: ،، لعن المخنثين من الرجال والمترجلات من النساء (1) اور تانبہ پیتل لوہا وغیرہ عورتوں کو بھی حرام ہے۔ حدیث میں اسے جہنمیوں کا زیور فرمایا ہے۔ جو ہرہ نیرہ میں نجندی سے ہے: التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء (۲) اور اسے پہن کرنماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی ۔ درمختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها (۳) اور پہنے والا صالح امامت نہیں کہ فاسق ہے اور فاسق کو امام بنانا گناہ ہے۔ غنیہ میں ہے: ۔ لوقدموافاسقاياثمون بناءً على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (٢) ،، زید کا یہ کہنا افتراء ہے کہ جدی الکریم حضور مفتی اعظم ہند نے چین کو جائز فرمایا ہے، اس پر اس افتراء سے اور اس فعل بد سے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی