فجر کی سنتوں کی قضا اور مسبوق کا تشہد میں امام کی متابعت کا بیان
تینوں رکعتیں زید کی قعدہ والی ہوتی ہیں ان تینوں میں التحیات پڑھے یا صرف دو رکعت میں پڑھے؟ ہمارے پیش امام کا کہنا ہے کہ جو رکعت زید کو امام کے ساتھ ملی ہے دوسری زید کی پہلی ہوئی اس میں زید خاموش بیٹھا ر رہے۔ امام کی تیسری رکعت زید کی دوسری رکعت ہوئی اس میں زید التحیات اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا عبدہ و رسولہ تک پڑھ کر امام کے سلام پھیر نے تک خاموش بیٹھا رہے امام سلام پھیرے تو زید کھڑا ہو کر اپنی تیسری رکعت پوری کرے اب التحیات اور درود ابراھیمی اور ربنا اتنا پڑھ کر سلام پھیر دے۔ صحیح مسئلہ سے اطلاع فرمائیں!
الجواب: (1) فجر کی سنتیں اگر قضا ہو جائیں تو بلاشبہ سورج بلند ہونے پر زوال سے پہلے ادا کی جائے گی۔ رد المحتار میں ہے: اما اذا فاتت وحدها فلا تقضى قبل طلوع الشمس بالاجماع لكراهة النفل بعد الصبح واما بعد طلوع الشمس فکذلک عندهم و قال محمد احب الی ان يقضيها الى الزوال كما في الدرر ) ،، یعنی اگر صرف فجر کی سنت قضا ہوئی تو بالا جماع طلوع شمس سے قبل اس کی قضا مکروہ ہے اور رہا طلوع شمس کے بعد تو امام اعظم و امام ابو یوسف رحمھما اللہ کے نزدیک یہی حکم ہے کہ اسکی قضا نہیں کرے گا اور امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ زوال سے پہلے پہلے اسکی قضا کرلے اور ایسا ہی درر میں ہے۔ بلا شبہ علما نے یہ فرمایا ہے کہ سنتوں کی قضا نہیں مگر فجر کی سنت اس حکم سے بالا تفاق مستثنی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید بھی التحیات میں امام کی متابعت کرے۔ ہندیہ میں ہے: اذا ادرک الامام في التشهد وقام الامام قبل ان يتم المقتدى او سلم الامام في آخر الصلوة قبل ان يتم المقتدى التشهد فالمختار ان يتم التشهد کذا فی الغیاثیة “(۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ (1) رد المحتار ج ۲ ص ۵۱۲ كتاب الصلوة باب ادراك الفريضة دار الكتب العلمية بيروت (۲) الفتاوى الهندية ج ۱، ص ۱۴۷ ، كتاب الصلوة الفصل السادس في ما يتابع الامام وفي ما لا يتابع، دار الفکر بيروت