امام کے پیچھے مقتدی کے لیے قرآتِ فاتحہ کا حکم اور امام اعظم کا مذہب
امام کے پیچھے مقتدی الحمد شریف پڑھے گا یا نہیں؟ اگر الحمد شریف مقتدی پڑھے تو یہ کہاں سے ثابت ہے؟ خلاصہ بیان فرما ئیں اور اگر امام کے پیچھے مقتدی الحمد شریف نہ پڑھے تو یہ کہاں ثابت ہے؟ خلاصہ از روئے شرع وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما ئیں تسلی کیلئے اور امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک پڑھنا کیا ہے؟ اور امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک پڑھنا کیا ہے؟ خلاصہ لکھیں۔
الجواب: ہمارے امام اعظم ہمام اقدم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب مہذب و معتمد و مؤید یہی ہے کہ مقتدی کو قرآت منع ہے اور امام کی قرآت ہی مقتدی کی قرآت ہے اس لئے مقتدی کو امام کے پیچھے خاموش کھڑے رہنا فرض ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد مطلق ہے: وَإِذَا قُرِ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَانْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ) اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سنو اور چپ رہو کہ تم پر رحمت ہو۔ ،، اور حدیث میں ہے: ” الامام ضامن (۲) ۔ نیز حدیث میں ہے: ”من كان له امام فقـــرأة الامـام له قرأة (۳)۔ جس کا کوئی امام ہو تو امام کی قرآت اس مقتدی کی قرآت ہے۔ اور تفصیل دلائل کیلئے ہدایہ فتح القدیر نیہ وغیرہ دیکھئے اور ہم حنفی ہیں لہذا ہم پر اپنا مذہب بتانا ضرور ہے۔ درمختار میں ہے: لو قيل لحنفي ما مذهب الامام الشافعى فى كذا و جب ان يقول قال ابو حنيفة كذا (٢) سائل کو بھی مذہب حنفی کا مسئلہ دریافت کرنا ضر ور اور اسی پر عمل لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ رشوال ۱۴۰۴ھ