حضور علیہ السلام کی یاد میں استغراق سے نماز معاف ہونے کے باطل قول کا رد
کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ : زید حضور میلیا ایہام کی یاد میں مستغرق ہو جائے تو اور نماز کا وقت ہوکر گزر جائے تو وہ نماز معاف ہے یا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ نماز معاف ہے زید کا قول درست ہے یا نہیں ؟ اگر درست ہے تو کس طرح قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔ مستلقی: چاند علی رضوی، بنی نوازی مسور سریان نگر یکرولی
زید کا قول نادرست ہے حضور علیہ السلام کے خیال میں مستغرق ہونے سے نماز معاف نہ ہوگی ہاں میلہ یوں ہے کہ نماز پڑھتے میں امتی کو حضور علیہ السلام اگر بلا لیں تو اسی وقت بالفعل اجابت فرض ہے پھر تعمیل حکم کے بعد نماز پڑھے زید کو اس مسئلہ سے دھوکا لگا اور وہ اسے صحیح بیان نہ کر سکا زید پر تو به فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب ۷ / جمادی الاولی ۴ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محلہ سوداگران، بریلی شریف