حالت قیام میں دونوں پیروں کے درمیان مستحب فاصلہ کی مقدار
حالت قیام میں دونوں پیروں کے درمیان ہاتھ کی چار انگلیوں کا فاصلہ مستحب ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید حالت قیام میں اپنے دونوں پیروں کے پچھلے حصے یعنی ایڑی کو ملا کر نماز پڑھتا ہے لہذا زید کی نماز میں کچھ کراہت ہوتی ہے یا نہیں؟ اور دونوں پیروں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیئے ؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی: لیاقت علی فیض العلوم دھوبی خرد فاضل نگر دیور یا
الجواب: ہاتھ کی چار انگل کا فاصلہ دونوں پیروں کے درمیان ہونا یہ حالت قیام میں مستحب ہے۔ ہندیہ میں ہے: ” و ینبغی أن يكون بين قدميه اربع اصابع فی قیامه کذافی الخلاصة (1) اور اس کا ترک خلاف اولیٰ ہے ۔ اور جدی الکریم اعلیحضرت قدس سرہ العزیز فتاویٰ رضویہ میں اسی طرح کے ایک مسئلہ کے جواب میں ”اقول“ کہہ کر فرماتے ہیں: اقول : بل فى نور الايضاح و شرحه مراقی الفلاح للعلامة الشرنبلالي يسن تفريج القدمين في القيام قدرا ربع اصابع لانه اقرب الى الخشوع اه قال السيد الطحطاوي في حاشیته نص عليه فى كتاب الاثر عن الامام و لم يحك فيه خلاف_اه امام علامہ ابو یوسف ارد بیلی شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی کتاب الانوار میں کہ اجل معتمدات مذهب شافعی سے ہے اسی چار انگل فصل کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی۔ حیث قال: ،، يكره الصاق القدمين ويستحب التفريق بينهما بقدر اربع اصابع الخ (۲) زید کو دونوں پیروں کے درمیان اتنا فاصلہ رکھنا چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله