عورتوں کے سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں اور پنڈلی کے زمین پر لگنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) حالت سجدہ میں کسی ایک انگلی کے پیٹ کا لگنا جو فرض بتلایا ہے آیا اس میں عورتیں بھی داخل ہیں کہ نہیں؟ (۲) نماز کی سنتوں کے بیان میں عورت کیلئے پنڈلی کا لگا ناز مین پر حالت سجدہ میں سنت بتلایا ہے پھر اس پر کیسے عمل ہو گا تسلی بخش جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔ المستفتی :محمد رمضان علی قادری ، ناگور راجستھان
(۱) نہیں۔ انہیں سجدہ میں حکم ہے کہ پست ہو کر اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے لگائیں: والمرأة تنخفض فلا تبدى عضديها و تلصق بطنها بفخذيها لانه استر) اور اپنے دونوں پیر ایک جانب نکال دیں جس طرح قعدہ میں ایک پیر دوسرے پیر کی طرف نکالکر بیٹھتی ہیں۔ ردالمحتار میں ہے: قوله (متوركة) بأن تخرج رجلها اليسرى من الجانب الايمن ولا تجلس عليها بل على الارض (1) یعنی عورت تو رک کرے گی اس کی کیفیت یہ ہے کہ بائیں قدم کو دائیں جانب نکالے اور اس پر نہ بیٹھے بلکہ زمین پر بیٹھے سرین زمین پر ہوگی۔ اسی میں ہے: ”ذکر فی البحر انها لا تنصب اصابع القدمين كما ذكره في المجتبی (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) کیفیت مذکورہ سے یہ ظاہر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله