امام کے سلام پھیرنے کے بعد اقتدا کا حکم اور مسبوق کے لیے تشہد پڑھنے کا طریقہ
۹ رشوال المکرم ۱۳۹۶ھ امام کے سلام پھیرنے کے بعد اقتدا درست نہیں ! مسبوق قعدہ اخیرہ میں التحیات" ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اسلام سے پیشتر فارغ ہونے کی صورت میں کلمہ شہادت کی تکرار کرے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: (1) مقتدی جماعت میں شامل ہوا، لفظ ” السلام علیکم ورحمۃ اللہ پر جو امام پہلے اپنی داہنی طرف کہتے ہیں پھر بائیں طرف تو پہلے لفظ " السلام علیکم" پر اقتد ا ختم ہو جائے گی یا کہ بائیں طرف پر ؟ اور لفظ "سلام" کے میم پر ختم ہوگا یا کچھ اور ؟ اس پر فقہائے کرام کے ارشادات عالیہ ضرور نقل کر دیں مع عبارت و نام کتاب وصفحہ وجلد ۔ (۲) مسبوق امام کے ساتھ چوتھی رکعت کے قعدہ اخیرہ میں التحیات صرف پڑھے یا کہ درود شریف اور بقیہ دعا بھی پڑھے؟ پڑھنا ضروری ہے یا نہیں ؟ فقہائے کرام نے کیا فرمایا ہے؟
الجواب: (۱) امام کے سلام پھیرنے کے بعد اقتدا درست نہیں خواہ ایک طرف پھیرا ہو خواہ دونوں طرف پھیر لیا ہو کہ نماز تمام ہوگئی اور بعد تمامیت نماز اقتدا کا حل نہ رہا۔ (1) (۲) حدیث شریف میں ہے: تحريمها التكبير وتحليلها التسليم والمولى تعالیٰ اعلم (۲) مسبوق کو چاہئے کہ قعدہ اخیرہ میں التحیات ٹھہر ٹھہر کر پڑھے کہ امام کے سلام کے وقت فارغ ہو اور اگر سلام سے پیشتر فارغ ہو گیا تو کلمہ شہادت کی تکرار کرے اور اگر ” السلام علیک ایھا النبی“ سے تکرار کرے جب بھی کوئی ممانعت نہیں ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد سوئم میں ہے۔ (۲) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله