ساڑی پہن کر نماز پڑھنے کا حکم اور عورتوں کے سجدہ کا طریقہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) جس جگہ پر ساڑیوں کا رواج ہے وہاں پر عورتیں ساڑیاں پہن کر نماز پڑھتی ہیں یہ کیسا ہے؟ اس سے نماز ہوئی یا نہیں جواب عنایت ہو۔ (۲) مردوں کو نماز میں سجدہ کی حالت میں جو انگوٹھا کا پیٹ لگنا مشروع ہے اور باقی تین انگلیوں کے پیٹ کا لگنا واجب ہے اس طریقے سے عورتوں کو بھی سجدہ ادا کرنا چاہئے یا عورت اس مسئلہ سے مستثنی ہے جواب خلاصہ تحریر ہوئین کرم ہوگا۔ المستفتی : ایوب قادری کیراف ماسٹرشیخ غلامحی الد ین بمبئی
الجواب: (1) جائز ہے جن شہروں میں عورتوں میں ساڑیاں پہننے کا رواج ہے وہاں ساڑیاں پہننے میں حرج نہیں اور اگر اس سے پورا پوراستر ملحوظ ہو تو اس کو پہن کر نماز بھی جائز ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم (۲) عورتیں اس طرح سجدہ نہ کریں بلکہ پیٹ کو رانوں سے لگا کر پیروں کو دائیں جانب نکالیں۔ در مختار میں ہے: والمرأة تنخفض فلا تبدى عضديها و تلصق بطنها بفخذيها لانه است) اور ردالمحتار میں ہے: وذكر في البحرانها لا تنصب اصابع القدمين کما ذکرہ فی المجتبی (۲) ترجمہ :۔ اور بحر میں بیان کیا کہ عورت سجدہ میں پاؤں کی انگلیاں کھڑی نہیں کرے گی جیسا کہ اس کو مجتبی میں بیان کیا ہے۔ اور جدی الكريم امام احمد رضا قدس سرہ العزیز لا تنصب أصابع القدمین کے تحت جد الممتار میں فرماتے ہیں: ”ای فی السجود (۳) ترجمہ : - اور عورت سجدہ میں اس طرح جھکے گی کہ دونوں باز وظاہر نہ ہوں اور پیٹ کو اپنی رانوں سے ملالے کہ اس میں زیادہ ستر ہے۔ فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ