صاحب ترتیب کی تعریف، امام کا انتظار اور داڑھی منڈے کی امامت کا حکم
سوال
(1) صاحب ترتیب کس کو کہتے ہیں؟ (۲) امام کی غیر موجودگی میں جب نماز کا وقت آچکا ہو تو امام کا انتظار کریں یا نہیں؟ (۳) امام کی غیر موجودگی میں سب لوگ داڑھی منڈے ہوں تو نماز جماعت سے ادا کریں یا نہیں؟ اور جماعت کریں تو ان میں امام کون ہو؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (۱) جس کی پے در پے چھ نمازیں قضا نہ ہوئی ہوں وہ صاحب ترتیب ہے: وحد الكثرة ان تصير الفوائت ستا بخروج وقت الصلاة السادسة (1) اور کثرت کی حد یہ ہے کہ فوت شدہ نمازیں چھہ ہوں اور چھٹی نماز کا وقت نکل چکا ہو۔ در مختار میں ہے: فان كثرت وصارت الفوائت مع الفائتة ستاظهر صحتها (٢) (۲) وقت میں وسعت ہو اور امام کی آمد جلد متوقع ہوتو انتظار کرنا چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تنہا پڑھیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۳ · صفحہ ۱۸۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بچہ کو دس سال کی عمر میں نماز کے لیے مارنے اور چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
سجدہ میں انگلیوں کی پوزیشن، مکروہ اوقات میں نماز، عصر ومغرب کے درمیان کھانا پینا اور دیگر مسائل
باب: کتاب الصلوٰۃ
صف بھری ہونے کی صورت میں مقتدی کو کھینچنے کا طریقہ اور امام کو جاہل کہنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
ساڑی پہن کر نماز پڑھنے کا حکم اور عورتوں کے سجدہ کا طریقہ
باب: کتاب الصلوٰۃ
اذان کے بعد صلاۃ پڑھنے والے کو شیطان کہنا اور جاہل کا غلط حوالے دے کر حدیث بیان کرنا
باب: کتاب الصلوٰۃ