صف بھری ہونے کی صورت میں مقتدی کو کھینچنے کا طریقہ اور امام کو جاہل کہنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: امام نماز پڑھا رہا ہے اور پیچھے مقتدی کی صف بالکل بھری ہوئی ہے، جلدی میں ایک نمازی آیا توصف کے کدھر سے آدمی کھینچے؟ بیچ میں سے یا ایک طرف سے؟ اگر کنارے سے بھینچ کر بیچ میں لائے تو اسکی نماز ہوگی یا نہیں؟ اگر مقتدی امام سے کہے کہ تم کچھ نہیں جانتے ہو تو اسکے لئے کیا حکم ہے؟ جواب باصواب سے مطلع فرمائیں
الجواب: آج کل عوام اس مسئلہ سے بے خبر ہیں اسلئے حکم ہے کہ کنارے سے کسی آدمی کی پشت پر ہاتھ رکھدے وہ اگر مسئلہ سے واقف ہوگا تو کچھ توقف کر کے اپنی جگہ سے کھینچ آئے گا ورنہ نیت باندھ لے اب کراہت نہ ہوگی ۔ امام سے بلا وجہ جاہل کہنانا جائز اور باعث ایذا ہے۔ حدیث پاک میں ہے: من اذى مسلمافقداذانی و من اذانی فقداذی الله یعنی جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔ اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله