داڑھی منڈے شخص کی اذان و اقامت کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں : ۷ ربیع الآخر ۱۴۰۵ھ ہماری جماعت مسلم میں چند صاحبان کا کہنا ہے کہ داڑھی منڈوانے والا اگر مسئلہ سے واقف ہے اردو، عربی، فارسی پڑھا ہے، قرآن کی تلاوت، اذان و امامت سب کچھ اچھی طرح سے کر سکتا ہے اگر وقت مقررہ پر موذن یا پیش امام وقت یا کوئی داڑھی والا موجود نہیں ہے اور وقت گزر رہا ہے اذان کا، مثلا ہمارے یہاں ۷ / جگر ۳۰ منٹ پر اذان عشاء دی جاتی ہے اور ۷ / جگر ۴۵ رمنٹ پر جماعت شروع ہو جاتی ہے اتفاق سے پیش امام اور موذن دعوت میں چلے گئے اذان ۷ بجکر ۴۰ منٹ پر دی گئی پیش امام ۷ / بجکر ۴۵ منٹ پر مسجد میں داخل ہوئے اور جائے نماز پر نہیں گئے موذن نے تکبیر بولی امام نے نیت کر کے نماز چالو کر دی چند صاحبان موذن اور پیش امام کے آنے سے پہلے تقریباً ۵، ۱۰ موجود تھے ان سے کہا گیا آپ صاحبان بفضل خدا تعلیم یافتہ ہیں آپ صاحبان کو امامت اذان دینا اچھی طرح سے معلوم ہے آپ نے اذان کیوں نہ دیدی تو وہ صاحبان نے کہا ہم لوگ داڑھی منڈے ہیں ہماری اذان و اقامت مکروہ تحریمی ہے پیش امام صاحب نے کہا کہ مجبوری کے وقت داڑھی منڈا اذان دے سکتا ہے اقامت بھی بول سکتا ہے جب کوئی داڑھی منڈا موجود نہ ہو صرف نماز نہیں پڑھا سکتا۔اس پر دوسرا سوال گیا کہ داڑھی منڈے سب مقتدی ہیں امام صرف داڑھی والا ہے موذن نہیں ہے اذان بھی امام نے دی اب اقامت بھی امام خود بولے اور بول کر مصلیٰ پر جائے امامت کی نیت کر کے جماعت پڑھائے کیا اس حالت میں داڑھی منڈا اقامت کہہ سکتا ہے۔ یا نہیں؟ صحیح مسئلہ سے اطلاع دیجئے فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله
الجواب: داڑھی منڈے کا اذان دینا مکروہ ہے۔ متقی پرہیز گار نیک عالم بالسنتہ لوگوں کے احوال سے واقف اور جماعت میں تاخیر کرنے والوں کو زجر و توبیخ کرنے والا اذان پر مواظبت کرنے والا اور اپنی اذان کا حساب کا حساب رکھنے والا شخص ہو اور بہتر یہ ہے کہ امام ہی ہو، اگر موذن یا اور کوئی صالح شخص نہ ہو تو اذان کیلئے وہی متعین ہوگا، اذان جس نے کہی اقامت بھی وہی کہے۔ داڑھی منڈا بھی اقامت کہہ سکتا ہے مگر امام کا اقامت کہنا بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ