جمعہ کی اذانِ ثانی کا مقام اور مسجد کے اندر اذان کی کراہت و ممانعت
(1) جو جمعہ کی اذان ثانی ہوتی ہے ، وہ اذان مسجد کے اندر دی جائے یا باہر؟ فقہ کی معتبر کتابوں سے جواب دیں۔ (۲) جمعہ کی اذان ثانی منبر کے سامنے رسول ال سی ٹی ایم کے زمانہ میں مسجد کے اندر ہوتی تھی یا باہر؟ (۳) خلفائے راشدین کے زمانہ میں اذان ثانی کہاں ہوتی تھی؟ (۴) فقہ حنفی کی معتبر کتابوں میں مسجد کے اندر اذان دینے کو منع فرمایا ہے اور مکر وہ لکھا ہے۔ (۵) اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانہ میں اذان مسجد کے باہر ہوتی تھی اور ہمارے اماموں نے مسجد کے اندر اذان مکروہ فرمایا ہے تو ہمیں اسی پر عمل لازم ہے یا رسم و رواج پر ؟ اور جو رسم و رواج حدیث شریف اور احکام فقہ سب کے خلاف پڑ جائے تو وہاں مسلمانوں کو پیروی حدیث وفقہ کا حکم ہے یا رسم و رواج پر اڑارہنا؟ (6) جن مسجدوں میں ایسے منبر بنے ہیں کہ ان کے سامنے دیوار ہے، اگر موذن باہر اذان دے تو خطیب کا سامنانہ رہے گا ، وہاں کیا کرنا چاہئے؟ (۷) مسجد میں محراب اور منبر ایک دم نزدیک بنے ہوئے ہیں اور محراب کے سامنے دروازہ ہے اور دروازہ سے ہٹ کر دوفٹ منبر کا نیچا حصہ پڑتا ہے، اگر دو فٹ ہٹ کر باہر دروازہ پر منبر نظر آتا ہو تو اذان دے سکتے ہیں یا نہیں ؟ منبر کے سامنے دیوار ہے۔ المستفتی سید محمد عثمان غلام رسول رضوی مقام و پوسٹ و تعلقہ : وڈ گام ضلع بناس کنٹھا ( گجرات)
الجواب: (۱) حدود مسجد ( خارج مسجد ) میں ۔ خاص موضع صلاۃ میں کوئی اذان جائز نہیں بلکہ مکروہ وممنوع ہے۔ ہندیہ میں خانیہ سے ہے: ،، وینبغي ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد ) ہدایہ وغیرہ میں ہے: والمكان فى مسألتنا مختلف “ اسی کے تحت فتح القدیر میں ہے: المعهود اختلاف مكانهما و الاقامة في المسجد ولابد واما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففي فناء المسجد وقالو الا يؤذن في المسجد () طحطاوی میں قہستانی سے ہے : یکرہ ان يؤذن فی المسجد “ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۳۲) دروازه مسجد پر کہیں منقول نہیں کہ کبھی اذان داخل مسجد کہی گئی ہو، حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنن ابو داؤد میں مروی ہے: انه كان يؤذن بين يدى رسول الله صلى الله علیه وسلم اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد و ابی بکر و عمر (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۴) شرع کی پیروی لازم ہے اور رسم ورواج مخالف شرع کا اعتبار نہیں۔ علماء فرماتے ہیں: لا عبرة بالعرف المخالف للشرع واللہ تعالیٰ اعلم (۵) تھوڑا تر چھا ہو کر امام کے سامنے کھڑا ہو اور اذان کہے یا دیوار میں جال نکال لی جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) یہاں پر کھڑے ہو کر اذان دینا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام،محلہ سوداگران، بریلی شریف (1) الفتاوى الهندية ، ج ۱، ص ۱۱۲ ، كتاب الصلوة الباب الثاني في الاذان، دار الفکر بيروت (1) الهداية الجزأن الاولان ، ص ۸۹ كتاب الصلوة، باب الاذان ، مجلس بركات فتح القدير ، ج ۱، ص ۲۵۰، کتاب الصلوة ، باب الاذان برکات رضا (۳) حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص۱۹۷، کتاب الصلوۃ، باب الاذان، دار الكتب العلمية بيروت (۴) سنن ابی داؤد، ج ۱، ص ۱۵۵، کتاب الصلوة ، باب الجمعة، اصح المطابع