جمعہ کی اذان ثانی مسجد کے اندر منبر کے روبرو دینے کا شرعی حکم
کیا اذان ثانی مسجد کے اندر خطیب کے رو برو دینا نا جائز ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان اسلام فقہ حنفیہ اس مسئلہ پر کہ: جمعہ کی نماز میں ثانی اذان جو خطیب کے خطبہ پڑھنے سے پہلے دی جاتی ہے، کیا وہ منبر کے روبرو دی جاسکتی ہے؟ یا اذان اولی کی طرح مسجد کے باہر؟ عرصہ دراز سے ہمارے یہاں یہ طریقہ رائج ہے کہ ثانی اذان منبر کے رو برودی جاتی ہے۔ کسی صاحب نے منبر کے روبرو اذان دینے کوطریقہ جماعت اسلامی قرار دیا ۔ تو کیا یہ جماعت اسلامی والوں کا طریقہ ہے؟ اگر نہیں تو اس عالم کے لئے کیا حکم ہونا چاہیے؟
الجواب: اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے۔ خاص موضع صلاۃ میں کوئی اذان دینا جائز نہیں؟ لہذا جمعہ کی اذان ثانی بھی روبروئے خطیب خارج مسجد کہی جائے ۔ فتح القدیر میں ہے: وو و الاقامة في المسجد ولا بد و اما الاذان ففى المئذنة فان لم يكن ففي فناء المسجد وقالو الايؤذن في المسجد (1) اسی کے باب جمعہ میں ہے: وو هو ذكر الله في المسجداى فى حدوده لكراهة الاذان في داخله (۲) طحطاوی میں ہے: یکرہ ان يؤذن في المسجد (۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۸ / رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی