اقامت کے وقت حی علی الفلاح پر کھڑا ہونا اور اذان و اقامت سے پہلے درود شریف پڑھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: ہمارے شہر کے ایک مسجد میں ایک مولانا آئے تھے ان کے کہنے سے وہاں کے مقتدی اقامت کے وقت سب بیٹھ جاتے ہیں جب حی علی الفلاح کہا جاتا ہے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ موذن ہر اذان واقامت سے پہلے درود شریف پڑھتا ہے مولوی صاحب سے دریافت کرنے پر وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مسائل فقہ کی کتابوں میں ہیں مگر یہاں زمانہ قدیم سے انکا نہ ہونے سے آپ کو نیا لگتا ہے۔ مقتدی ان مسائل کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں پر پرانے زمانے سے ایسا نہیں تھا لہذا یہ نیا کام ہے یہ فتنہ ہے اسکی ضرورت نہیں ہے یہاں بڑے بڑے علماء کرام آئے تھے انہوں نے نہیں کہا مگر یہ مولانا ایسا کہہ رہے ہیں اسلئے یہ نہ کر کے پہلے کی طرح ہی رہنا چاہئے یہ اقامت واذان سے پہلے درود شریف کی ضرورت نہیں اور حی علی الفلاح پر کھڑے ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مولوی صاحب حق پر ہیں یعنی مفتی صاحب جو منع کرتے ہیں ؟ کیا ان مسائل پر عمل کرنے سے ثواب ہوگا یا نہیں ؟ ان مسائل کی تفصیلی وضاحت فرما کر رہنمائی فرمائیں یہ مسائل جن کتابوں میں ہیں ان کے نام بھی تحریر فرما ئیں معین نوازش ہوگی۔
الجواب: عالم نے صحیح کہا واقعی حنفیہ کے نزدیک "حی علی الفلاح“ پر کھڑا ہونا مستحب ہے اور پہلے سے کھڑا ہوجانا مکروہ ہے۔ درمختار میں ہے: (1) دخل المسجد والمؤذن يقيم قعد الی قیام الامام فی مصلا) یعنی مسجد میں آیا اور موذن اقامت کہ رہا ہو تو امام کے اٹھنے تک اپنی جائے نماز پر بیٹھا ر ہے۔ الدر المختار ج ۲، ص ، كتاب الصلوۃ باب الاذان، دار الكتب العلمية بيروت رد المحتار میں اس کے تحت ہے: قوله قعد و یکره له الانتظار قائما ولكن يقعد ثم يقوم اذا بلغ المؤذن حى على الفلاح انتهى هنديه عن المضمرات () کھڑے ہوکر انتظار مکروہ ہے بلکہ بیٹھ جائے پھر جب مؤذن حی علی الفلاح پر پہونچے تو اٹھے ہندیہ میں مضمرات سے اسی طرح ہے۔ اور درود شریف مطلقاً جائز ومندوب ہے اور کسی وقت میں منع نہیں لہذا اذان سے پہلے یا بعد اور اقامت سے پہلے بھی پڑھنا جائز و درست ہے اس سے ممانعت سنی صحیح العقیدہ کا کام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری ۲۲ رصفر المظفر ۱۴۰۸ھ