تکبیر سے قبل بلند آواز سے تعوذ، تسمیہ اور درود شریف پڑھنا
کیا تکبیر سے پہلے بآواز بلند تعوذ و تسمیه و درود شریف پڑھنانا جائز ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسائل مندرجہ ذیل میں کہ بکر جب تکبیر کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو بآواز بلند تعوذ و تسمیہ و درودشریف پڑھتا ہے بعد میں تکبیر شروع کرتا ہے کیا یہ کسی حدیث اور فقہ سے ثابت ہے یا کسی صحابی یا بزرگان دین کا عمل رہا یا اور کچھ تکبیر سے قبل بلند آواز سے کچھ پڑھنا ثابت ہے؟ تو اس عمل کو کیا قرار دیا جائے مفصل و مدلل بیان سے نوازیں۔ المستفتی: عبد القدیر
تکبیر سے پہلے تعوذ و تسمیہ اور درود شریف پڑھنا حدیث میں منقول نہ ہوا مگر حدیث میں منقول نہ ہونے کی وجہ سے ناجائز و بدعت جاننا کہ حضور و صحابہ و تابعین سے ثابت نہیں وہابیہ کی حماقت ہے کہ منقول نہ ہونا سرے سے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے اور بالفرض نہ ہو نا مان لیں تو محض اتنی سی بات کہ حضور وصحابہ و تابعین نے نہیں کیا ہے کوئی امر حرام نہیں ہو جائے گا۔ حرام وہی ہے جسے خدا و رسول نے حرام فرمایا ہے مولانا شاہ عبد العزیز صاحب قدس سرہ نے تحفہ اثنا عشریہ میں فرمایا نہ کر دن چیزے چیزے دیگر است ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرلہ