مسجد کے اندر اذان اور اذان ثانی کا حکم اور اس کی ممانعت کے دلائل
چاہئے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیے۔
الجواب: المستفتی: محمد علاءالدین انصاری لکھیا سیون ڈیہہ، بی ۔ ایس ۔ سیٹی، (دھنباد ) اذان ثانی خواہ کوئی اذان مسجد کے اندر جائز نہیں ۔ ہندیہ میں ہے ، قاضی خان میں ہے: ينبغى أن يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد (1) طحطاوی علی المراقی میں ہے: ويكره أن يؤذن في المسجد (۲) فتح القدیر میں خاص اذان جمعہ کے متعلق ہے: هو ذكر الله فی المسجدای حدوده لكراهة الاذان في المسجد (۳) سید ناسائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنن ابی داؤد شریف میں مروی ہوئی کہ : كان يؤذن بين يدى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد وابی بکر وعمر (۲) یعنی جمعہ کی اذان حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور شیخین کریمین کے زمانہ میں دروازہ مسجد پر منبر کے سامنے ہوتی تھی۔ تفصیل کے لئے احکام شریعت، فتاویٰ رضویہ ملاحظہ ہو۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۵ ؍ ربیع الآخر ۱۳۸۸ھ (1) فتاوی قاضیخان، ج ۱، ص ۵۱ کتاب الصلاة، باب الاذان، دار الفکر بیروت (2) الطحطاوي ، ص۱۹۷، کتاب الصلاة، باب الاذان، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) فتح القدير، ج ۲، ص ۵۶ کتاب الصلاة، باب الجمعة، مرکز اهلسنت برکات رضا (۴) سنن ابی داؤد، ص ۱۵۵ کتاب الصلوۃ، اسلامک اکیڈمی