صلوٰۃ کو بدعت حسنہ کہہ کر نہ ماننے والے کا حکم اور مسجد کے اندر اذان ثانی کی ممانعت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) بکر نے کہا کہ یہ صلاۃ بدعت حسنہ ہے حضور کے زمانے میں نہیں تھی ہم اس لئے اسے نہیں مانیں گے ۔ قرآن وحدیث سے ثابت ہے تو بتائیے ۔ اب بکر کا کیا حکم ہے؟ (۲) صلوۃ کا پڑھنا از روئے شرع کیا ہے؟ اور یہ کب سے رائج ہے؟ اس کا ثبوت قرآن وحدیث سے بیان کیا جائے۔ (۳) اذان ثانی جمعہ کے دن اندر دینا کیسا ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ پہلے سے ہوتا آیا ہے، ہوتا رہے گا ۔ لہذا تمام سوالات کے جواہات مدل بیان فرمائیں۔ المستفتی معین الدین نوری، امام مسجد ڈاکخانہ ، شہامت گنج ، بریلی
الجواب: (1) نمبر نے اگر فی الواقع صلاۃ کو بدعت حسنہ مانا تو س کا یہ کہنا کہ ہم نہ مانیں سئے ناقض اور اس کی حماقت وضد کی کھلی دلیل ہے اور اس کا ہم سے ثبوت مانگنا بے جا ہے۔ اس پر لازم ہے کہ قرآن و حدیث سے ثابت کرے کہ اذان کے بعد درود وسلام پڑھنا منع ہے اور نہیں کر سکتا تو اس کا اسے ممنوع جاننا خود ممنوع و گناہ ہے۔ قرآن صاف فرماتا ہے: وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ الْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَلٌ وَهَذَا حَرَامُ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللهِ الْكَذِبَ (1) یعنی اسے جس کو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں، نہ کہو کہ یہ حلال اور یہ حرام کہ اللہ پر جھوٹ باندھو۔ اور جواز کے لئے ہمیں یہی کافی کہ ممانعت اصلاً مفقود۔ پھر قرآن کا حکم مطلق موجود : صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (۲) تو جس وقت بھی صلاۃ وسلام پڑھا جائے علم الہی کی تعمیل ہوگی۔ اب جو کسی وقت خاص میں بے دلیل منع کرے، وہ مطلق حکم خدا کو مقید کرتا اور تحریف کا مرتکب ہوتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جائز و مستحسن ہے۔ درمختار میں ہے: التسليم بعد الاذان حدث في ربيع الآخر سنة سبع مأة و احدى وثمانين في عشاء ليلة الاثنين، ثم يوم الجمعة، ثم بعد عشر سنين حدث في الكل الا المغرب ثم فيها مرتين، وهو بدعة حسنة حدیث میں ہے: ”ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن جسے مسلمان اچھا جانیں وہ خدا کے نزدیک اچھا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) مکروه وممنوع و خلاف سنت نبویہ علی صاحبہا الصلاۃ والتحیہ ہے۔ اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے اور مسجد کے اند رکوئی اذان دینا جائز نہیں ۔ ہندیہ میں ہے: و ينبغى ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد طحطاوی علی المراقی میں قہستانی سے ہے: ویکره ان يؤذن فى المسجد كما فى القهستاني عن النظم تفصیل کے لئے رسالہ مبارکہ او فى اللمعة فی اذان الجمعة “ و احکام شریعت ملاحظہ ہو۔ جو لوگ اس خلاف سنت پر مصر ہیں سخت گناہگار ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰ رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ