اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے!
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ: جمعہ کی اذان ثانی خطیب کے سامنے اندر ہو یا باہر؟ امام صاحب کہتے ہیں : اندر ہونا کوئی حرج و گناہ نہیں ہے۔ المستفتی: سید محمد ارشاد علی رضوی مسجد رضا ، ذاکر نگر، دہلی (انڈیا)
الجواب: اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے، خاص مسجد میں کہ موضع صلاۃ ہے، میں اذان مکر وہ و ممنوع ہے۔ تمام فقہا بیک زبان فرماتے ہیں: لا يؤذن في المسجد ) مسجد میں اذان منع ہے۔ سنن ابی داؤد شریف میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث مروی ہے: كان يؤذن بين يدى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اذا جلس على المنبريوم الجمعة على باب المسجد وابی بکر و عمر (۲) ،، یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے رو برو جمعہ کے دن دروازه مسجد پر اذان دی جاتی جب یہ حضرات منبر پر جلوہ فرما تھے، اس سے ظاہر ہوا کہ سرکار دو عالم علیہ الصلاۃ والسلام اور شیخین کریمین کے زمانے میں خطبہ کی اذان مسجد کے باہری حصہ میں ہوتی تھی اور کبھی منقول نہ ہوا کہ اندرون مسجد اذان سرکار نے دلوائی ہو۔ اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو کم از کم ایک بار بیان جواز کے لیے ضرور اندرون مسجد اذان دلواتے ۔ ثابت ہوا کہ اندرون مسجد اذان کہلوانا تبدیل سنت سرکار علیہ اصلوۃ والسلام ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۷ رمضان المبارک ۱۴۰۶ھ