افطار میں تعجیل اور مؤذن کے لیے افطار کا حکم
کے کتا بچہ کو پڑھ کر ہمارے شہر کے لوگ کشمکش میں مبتلا ہو گئے ہیں اس لئے میں نے یہ ضروری سمجھا کہ یہ تمام صورت حال آپ کو لکھوں۔ میں نے یہ کتا بچہ آپ کو روانہ کرنے سے بہتر یہ سمجھا کہ اس میں سے چند سوالات آپ کو لکھوں ، وہ سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔ (1) اذان وافطار ایک ساتھ شروع کرنا صحیح ہے یا غلط؟ (۲) اذان کے دوران اور دعا سے پیشتر افطار کرنا کس کتاب سے ثابت ہے؟ (۳) اذان کے آداب بجالانے سے مستثنیٰ کون سا مہینہ ہے؟ (۴) کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کتنے وقت روزہ افطار کر سکتے ہیں؟ یہ وقت منٹ سکینڈ یا گنتی سے بتائیں۔ (۵) کتنے وقت کے بعد افطار کریں تو روزہ مکروہ و ناقص اور فاسد ہوتا ہے؟ کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کتنا وقت درکار ہوگا ؟ (۶) مغرب کی نماز کا وقت کب سے شروع ہوتا ہے؟ (۷) روزہ دار موذن بغیر روزہ افطار کیے ، اذان کہے گا تو اس کا روزہ اور اذ ان صحیح ہوگی یا غلط؟ براہ کرم مفتی صاحب، اپنی پہلی فرصت میں اس مسئلہ کا حل پیش کریں تا کہ رمضان کے شروع ہونے سے قبل ہم لوگ روزہ افطار کرنے کے صحیح مسئلہ سے واقف ہو جائیں۔ امید ہے کہ رمضان سے پہلے آپ کا جواب ہمیں مل جائے گا۔ اس تحریر میں کچھ غلطی ہو تو معاف کریں۔ فقط ۔ جواب کا منتظر : محمد مزمل مائذلک کا جو باغ ، کاروار
(1) غروب آفتاب کے بعد فوراً بلا تاخیر افطار کرنا چاہئے ، یہی مستحب اور شرعاً مطلوب ہے۔ مؤذن بھی پہلے خفیف طور پر افطار کر لے پھر اذان کہے، اسی پر تمام دیار وامصار میں بلانکیر منکر از منہ کثیرہ سے عمل چلا آرہا ہے، اس کے خلاف حکم دینا ترک مستحب پر ابھارنا ہے اور مسلمانوں کو کلفت میں ڈالنا اور انہیں منتشر خواہ مخواہ مشوش کرنا ہے۔ لہذا یہی طریقہ قابل عمل ہے کہ پہلے افطار کرے اور بعجلت اس سے فارغ ہو کر اذان کہے اور اذان میں تاخیر کھانے میں انہماک کے سبب نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اذان کے دوران افطار کیونکر متصور ہے؟ اور افطار کی دعا بعد افطار پڑھنا اولیٰ ہے تفصیل کیلئے رسالہ مباركة العروس المعطار تصنیف سیدنا اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) کوئی سا نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جلدی کرنا غروب آفتاب کے تیقن کے بعد مستحب ہے اور معمولی تاخیر میں حرج نہیں اور بہت زیادہ تاخیر کرنا کہ اندھیرا ہو جائے، روافض سے مشابہت ہے جس سے احتراز لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (۵) روزه غروب آفتاب پر تمام ہو جاتا ہے لہذا اب اس کے فاسد ہونے کا سوال نہیں اور غیر معمولی تاخیر روافض سے تشبہ ہے جونا جائز وگناہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) جب شفق غائب ہو جائے ۔ شفق ہمارے مذہب میں اس سپیدی کا نام ہے جو جانب مغرب پر سرخی ڈوبنے کے بعد جنوبا شمالاً صبح صادق کی طرح پھیلی ہوئی رہتی ہے اور یہ وقت ان شہروں میں کم سے کم ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ پینتیس منٹ ہوتا ہے۔ ( فتاویٰ رضویہ ) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) روزہ صحیح اور اذان درست ۔ واللہ تعالیٰ اعلم